آئندہ سال اپریل سے آئن لائن پاسپورٹ کا اجرا شروع ہوجائیگا

1280x720-237 اسلام آباد : وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آن لائن پاسپورٹ کے اجراءکا آغاز آئندہ سال اپریل سے شروع ہو جائے گا، جب کہ ویزوں کا اجراءبھی آن لائن کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں آن لائن پاسپورٹ کے اجراءکا آغاز آئندہ سال اپریل سے شروع ہو جائے گا‘ بلاک شناختی کارڈ کے معاملے کے جائزہ کے لئے نگران کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے‘ ویزوں کا اجراءبھی آن لائن کیا جائے گا‘ ماضی میں بلیو پاسپورٹ دھڑا دھڑ جاری کئے گئے‘ اب یہ سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ شناختی کارڈ‘ پاسپورٹ میں آن لائن کام آسان نہیں تھا جب اس کا آغاز کیا تو شدید مخالفت ہوئی کہ یہ نہیں ہو سکے گا، میں نے کہا کہ اگر سیکیورٹی کے ایشوز کے باوجود امریکی ویزہ آن لائن جاری ہو سکتا ہے تو یہاں کیوں، شناختی کارڈ کا آن لائن اجراءشروع ہو چکا ہے، پاسپورٹ کا باقاعدہ اجراءاپریل 2016ءسے ہوگا، بیرونی ممالک 84 سفارت خانوں سے تین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا اجراءکیا جارہا ہے، اپریل 2015ءمیں پاکستان سے اس کے اجراء کے بعد چند ماہ میں ہی یہ کام پاکستانی سفارت خانوں سے اجراء کا آغاز کردیا جائے گا، اس سے کرپٹ مافیا سے نجات‘ لمبی لائنوں کا خاتمہ اور پاکستان ان چند ممالک کی صف میں شامل ہوگا جو ڈیجیٹل پر کام کر رہے ہیں۔ عارف علوی کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ دور میں بلیو پاسپورٹس بڑی تعداد میں جاری کئے گئے، ان پاسپورٹس کے ذریعے غیر متعلقہ لوگوں کو بیرون ملک بنھجوانے کے لئے استعمال ہوئے، ہم نے تحقیقات کیں کہ کتنے غیر مستحق افراد کو یہ جاری ہوئے تو دو ہزار ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی‘ ان کے پاسپورٹ ہم نے ختم کئے، ہم نے اپنے اڑھائی سال میں ایک بھی غیر مستحق فرد کو یہ پاسپورٹ جاری نہیں کئے۔ وزیر داخلہ کے پاس یہ صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ عوامی مفاد میں کسی کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کرے، جن کو گزشتہ ادوار میں یہ پاسپورٹ جاری کئے گئے ان میں ہمارے ذاتی ملازمین بھی شامل تھے۔ نعیمہ کشور کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاسپورٹ کے اجراءکے لئے ایسے علاقے جہاں خواتین کو مرد عملہ سے مشکلات ہوں وہاں پر خواتین کے عملہ کی تعیناتی کا معاملہ خود دیکھوں گا۔ جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہم نے ہزاروں کی تعداد میں بلاک کئے۔ اگر کسی کا درست شناختی کارڈ بلاک ہوا تو اس پر ایک نگرانی کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں وہ اس کا جائزہ لے گی۔ عبدالوسیم کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کسی شہر میں امتیازی پالیسی نہیں ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ایک لاکھ 36 ہزار 981 شناختی کارڈ بلاک کئے گئے۔ سماء

NISAR ALI KHAN

NIC

ONLINE VISA

Tabool ads will show in this div