طالبان نے پنج شیر کا مکمل محاصرہ کرلیا،صورتحال کشیدہ

یہ علاقہ اب تک طالبان کےقبضے میں نہیں آسکا

افغانستان سے غیر ملکیوں کو رخصت کرنے کے بعد طالبان نے اب اپنی پوری توجہ ملک کے واحد غیرمفتوحہ علاقے پنج شیر کی جانب مرکوز کرلی ہے او ر اس کے جنگجو بڑی تعداد میں اب تک ناقابل تسخیر رہنے والے علاقے پہنچ چکے ہیں۔ طالبان کے جنگجوؤں کے ایک بڑے اور تازہ دم قافلے کا رخ پنج شیر کی جانب ہے اور انہوں نے شاہراہ سالانگ بند کرکے وادی کا مکمل محاصرہ کرليا ہے اور علاقے کے اینٹری پوائنٹ پر ٹھہرے اپنی اعلیٰ قيادت کے حکم کے منتظر ہيں۔ واضح رہے کہ طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت ملک کے 33 صوبوں پر قبضہ کرلیا ہے تاہم ملک کا 34 واں صوبہ پنج شیر اب تک ناقابل تسخیر ہے۔ پنج شیر ہندوکش پہاڑی سلسلے کے ساتھ واقع ہے اور اوسطً سطح سمندر سے 2200 میٹر کی بلندی پر واقع ہے جبکہ اس کے بعض مقامات سطح سمندر سے 6 ہزار میٹر کی بلندی پر بھی ہیں۔ صرف طالبان ہی نہیں اس علاقے پر اب تک کوئی سپر پاور قبضہ نہیں کرسکی۔ وادی پنج شير کو اس کا محل وقوع دفاعی اعتبار سے مضبوط بناتا ہے اور وہاں تک رسائی صرف دريائے پنج شير کے ساتھ ايک تنگ راستے سے ممکن ہے۔ یہ علاقہ ایک قلعے کی صورت میں ہے جس کے باعث یہ بیرونی حملہ آوروں کے لیے ہمیشہ سے ایک مشکل محاذ ثابت ہوا ہے۔ جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو سوویت افواج اس پر قبضہ نہیں کرسکے تھے۔ سوویت فوج کے انخلاء کے بعد بھی اس حصے میں تناؤ برقرار رہا پہلے افغان حکومت کے ساتھ محاذ آرائی اور بعد میں طالبان تحریک کے ساتھ۔ جو سن 1994 میں افغانستان کے پشتون اکثریتی علاقوں میں شروع ہوئی تھی تاہم طالبان بھی اپنے پہلے دور اقتدار میں پنج شیر کا کنٹرول حاصل نہیں کرسکے تھے۔ امریکا کے طالبان کے قبضے کے بعد یہ علاقہ اس کا اتحادی رہا تھا۔ اب جب کہ طالبان نے افغانستان پر دوبارہ اپنا تسلط قائم تو کرلیا ہے لیکن تاحال پنج شیر ان کے تسلط سے باہر ملک کا واحد صوبہ ہے۔ یہ علاقہ اس وقت طالبان مخالف قوتوں کا گڑھ بنا ہوا ہے اور اب اس شہر میں احمد شاہ مسعود اور سابق افغان نائب صدر امرللہ صالح بچی کچھی افغان فوج اور مقامی ملیشیا کی قیادت کررہے ہیں۔

پنج شیر افغانستان کی دوسری بڑی قومیت تاجک باشندوں کا ایک تاریخی مسکن ہے جس کی آبادی 2 لاکھ کے قریب ہے اور یہاں کے لوگ اپنے تاریخی مسکن کو کسی اور کے قبضے میں نہیں دینا چاہتے۔ مزید براں طالبان میں چوں کہ اکثریت پشتونوں کی ہے اس لیے یہاں کے باشندے طالبان کا تسلط تسلیم کرنے کے بجائے ان سے لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دفاع کے لحاظ سے اس علاقے کا جغرافیہ بھی ہمیشہ یہاں کے لوگوں کے لیے اب تک معاون ثابت ہوا ہے۔ تاجک اپنی دفاعی لائن کابل شہر کو مرکز کے طور پر تصور نہیں کرتے۔ اس علاقے کی جغرافیائی لکیر وادی پنج شیر، درہ سالانگ، بدخشاں، بامیان، سرے پل اور بلخ پر مشتمل ہے۔ تاہم اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ طالبان اس علاقے پر بھی اپنی حکمرانی جمانے پر کمر بستہ ہیں اور وہاں اپنا بھرپور آپریشن لانچ کردیا ہے جس کے باعث یہاں آئندہ کچھ عرصے تک یہاں گھمسان کا رن پڑے رہنے کا خدشہ ہے۔

Panjshir

Tabool ads will show in this div