کروناوائرس:ہزاروں اسکول بند،اساتذہ بےروزگار،تعلیمی نظام الٹ پلٹ ہوگیا

بچوں نے ڈیجیٹل لرننگ یا آن لائن تعلیم حاصل کرنا شروع کی
Aug 31, 2021
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/Covid-Education-System-Special-Report-29-08-Hasan.mp4"][/video]

کرونا وائرس نے جہاں صحت کے نظام کو نقصان پہنچایا وہیں بچوں کی تعلیم اور معیشت کے شعبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان میں مارچ 2020 سے تعلیمی ادارے بند کئے گئے تو بچوں نے ڈیجیٹل لرننگ یا آن لائن تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ اس نظام تعلیم کے جہاں فوائد ہیں وہیں کئی نقصانات بھی سامنے آئے۔

پوزیشن ہولڈر اور عام طلبعلم سب برابر ہوگئے۔ بغیرامتحانات پرموشن نے پوزیشن ہولڈز طلباوطالبات کو مایوس کردیا۔ گزشتہ سال صرف43 دن اسکول کھلے جبکہ رواں سال صرف23دن اسکول کھلے۔ ڈیڑھ سال میں ہفتہ وارتعطیلات115دن رہیں اور ہربچہ18 ماہ میں تقریباً40 دن اسکول جاسکا۔

کرونا کے باعث لاک ڈاؤن اور معاشی خسارے کے باعث ہزاروں اسکول بند اور لاکھوں اساتذہ بے روزگار ہوگئے۔والدین نے موقف دیا کہ ڈیڑھ سال میں ہزاروں روپے اسکولوں کی فیس ادا کی تاہم اگر ایس او پیز پرعمل درآمد کروا یا جاتا تو اسکول کھولے جاسکتے تھے۔

Tabool ads will show in this div