جان دینےکے دعویداراشرف غنی کا فرار باعث شرم ہے،امراللہ صالح

سابق نائب صدر کا بی بی سی پشتو کو انٹرویو

افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ طالبان سے سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں ملک میں ہی اپنی جان دینے کے دعویدار سابق صدر اشرف غنی کا ملک سے فرار ہوجانا شرم کی بات ہے۔ بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بھاگ کر اشرف غنی نے اپنے اس وعدے کی بھی خلاف ورزی کی ہے جو انہوں نے ان سے کیا تھا۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ اشرف غنی نے ان سے کہا تھا کہ اگر طالبان کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ نہیں ہوا تو صدارتی محل میں مرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی کو اپنی پرانی ویڈیوز دیکھنی چاہئیں جن میں وہ یہ کہتے تھے کہ یہ مت پوچھیں کہ ملک نے آپ کے لیے کیا کیا ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ آپ نے ملک کے لیے کیا کیا ہے۔

امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ اشرف غنی ملک کے ایک اور حکمران امان اللہ کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ایک اچھی سوچ کے مالک تھے مگر ملک سے بھاگ کر انہوں نے قوم کو اکیلے چھوڑ دیا تھا تو اب اشرف غنی لوگوں کو بتائیں کہ وہ خود ملک سے کیوں بھاگے۔ انہوں نے کہا کہ اشرف غنی کا بیرون ملک جانے سے بہتر تھا کہ طالبان انہیں گرفتار کرتے کیوں کہ اس صورت میں قوم اور عالمی دنیا کی طرف سے طالبان پر دباؤ آتا۔ امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ مجھے یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی کہ اشرف غنی ان الزامات کا جواب کیوں نہیں دے رہے کہ وہ ملک سے بھاگتے وقت اپنے ساتھ ڈھیر ساری دولت بھی لے گئے۔ یاد رہے کہ 15 اگست کو کابل میں طالبان کے داخل ہوتے ہی افغان صدر اشرف غنی استعفیٰ دے کر فوری طور پر افغانستان چھوڑ گئے تھے۔ وہ پہلے تاجکستان پہنچے تھے تاہم وہاں انہیں رہنے کی اجازت نہیں ملی جس پر وہ دبئی چلے گئے۔ متحدہ عرب امارات نے انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دی۔ سولہ اگست کو ملکی و غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں دعوے کیے گئے تھے کہ اشرف غنی ایک کثیر رقم جسے کئی گاڑیاں ڈھوسکیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ سابق افغان صد ر کو ایک بڑی رقم چھوڑ کر بھی جانا پڑا کیوں کہ مزید پیسے ساتھ لے لے جانے کی گنجائش نہیں تھی۔

ASHRAF GHANI

Amrullah Saleh

Tabool ads will show in this div