کراچی: شہرسنوارنے والےخاکروبوں کے خستہ حال گھر

سوئپرز کوارٹرز اکثر حادثات کا باعث بن جاتے ہیں
Aug 28, 2021
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/Sweeper-Quarters-Khi-Pkg-25-08-Ayaz.mp4"][/video]

کراچی کے نارائن پورہ کوارٹرز میں رہنے والے سارا شہر سنوارتے ہیں لیکن وہ خود اجڑے گھروں ميں رہتے ہيں جن کی خستہ حالی کے باعث موت ہر وقت رہائشیوں کے سروں پر منڈلا رہی ہوتی ہے۔ خاکروبوں کے یہ کوارٹرز اتنے خستہ حال ہيں کہ یہاں حادثات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں اور اس کے مکین خصوصاً بچے اکثر شدید زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ کے ایم سی نے شہر کو سب سے بنیادی سروس دینے والے خاکروبوں کو انہی کھنڈروں میں بسایا ہوا ہے جہاں چند لمحات بھی گزارنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا. ان گھروں کی سیڑھیاں ہوں یا راہداریاں، چھتیں ہو بالکونیاں روز ہی ان کا کوئی نہ کوئی حصہ زمین پر آن گرتا ہے۔ بے خوفی سے ٹوٹی راہداری کو پھلانگتے بچوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ کب فرش ان کے قدموں سے سرک جائے گا اور کب چھت سے ملبہ گرپڑے اسی وجہ سے آئے روز عمارت کے ملبے گرنے سے بچے زخمی ہوتے ہیں۔ انہی سوئپرز کوارٹرز میں بسنے والی روبینہ کی بھانجی بھی ایسے ہی حادثے میں زخمی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ میری بہن کی بیٹی پر پتھر گرنے سے وہ زخمی ہوگئی تھی اور ہم اسے دیکھ کر چیخیں مار رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر مجبور نہ ہوتی تو یہاں رہ کر کبھی اپنے بچوں کی زندگیاں یوں خطرے میں نہ ڈالتے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں رہنا ہمارا شوق نہیں بلکہ مجبوری ہے، جب میں جاب پر جاتی ہوں تو لرزتی ہوں کہ کہیں پیچھے کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔ جن لوگوں کے پاس تھوڑی بہت بھی گنجائش تھی وہ نارائن پورہ کوارٹرز چھوڑ کر جا چکے ہیں اور ان خالی کھولیوں میں کچھ اور لوگوں کا بسیرا ہے. سماء نے جب ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضیٰ وہاب سے نارائن پورہ سوئپرز کوارٹرز کی دگرگوں حالت کے حوالے سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں آئے ہوئے ابھی کچھ ہی روز ہوئے ہیں۔

Tabool ads will show in this div