کالمز / بلاگ

افغانستان کا تابناک مستقبل

افغانیوں کا دوبارہ پيچھے جانے کا قطعی ارادہ نہيں
AFGHANISTAN-CONFLICT فوٹو: اے ایف پی

سوال: کیا افغانستان میں جاری حالیہ مذاکرات کامیاب ہوپائیں گے اور افغانستان میں موجود تمام دھڑے کسی مخلوط حکومت پر اتفاق کرلیں گے؟

جواب: اس بات کا احتمال بہت کم ہے کہ افغان قوم اپنے مقصد ميں کامياب نہ ہوں۔ دشمن نے کوئی کسر نہيں چھوڑی، چاہے وہ داخلی دشمن تھے يا خارجی، سب ناکام ہوئے ہيں۔ ہم يہ باور کراتے ہيں کہ، ان شاء اللہ اب ہمیں آگے جانا ہے۔ افغانوں کا قطعی يہ ارادہ نہيں کہ وہ دوبارہ پيچھے جائيں۔

یہ الفاظ حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار کے ہیں جو گزشتہ روز پی ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان کی گفتگو دنیا کے لیے دوٹوک پیغام ہے کہ پچھلے پانچ عشروں سے جنگ کی آگ میں جلنے والی قوم اب یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ اُس نے مزید کوئی جنگ نہیں لڑنی، کٹر مخالف دھڑے، جن میں اُزبک، تاجک اور ہزارہ قبائل بھی شامل ہیں، کا طالبان کے ساتھ مل بیٹھنا، افغان فوج کا اتنی آسانی سے ہتھیار ڈال دینا اور طالبان کی تیزی سے کابل کی طرف پیش قدمی، یہ سب راتوں رات نہیں ہوا، اس کے پیچھے پوری ایک تاریخ ہے۔

جنگ نہیں مذاکرات، یہ سوچ پروان چڑھی تو اس خطے کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، حالات یکسر بدل چکے ہیں، دنیا ایک نئی تاریخ لکھنے جا رہی ہے، افغانستان میں امن اب صرف افغانستان کی نہیں بلکہ پورے خطے کی مجبوری بن چکی ہے۔ چین ایران میں 400ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے، سی پیک منصوبہ چین کو پاکستان سے سینٹرل ایشیاء اور پھر یورپی یونین سے جوڑے گا، اس خطے میں ذرا سے بھی بدامنی جہاں چین کے منصوبوں کیلئے زہر قاتل ہے، وہیں پاکستان اور ایران بھی یہ گوارا نہیں کریں گے کہ قسمت کی جو دیوی اُن کے دروازے پر دستک دے چکی ہے، اُس سے فائدہ اُٹھائے بغیر واپس لوٹا دیا جائے۔

اُدھر روس بھی طالبان حکومت کيلئے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ روسی رہنماؤں کے بيانات واضح اشارہ دے رہے ہيں کہ ماسکو طالبان حکومت کو تسليم کرنے ميں دلچسپی رکھتا ہے، اگر چين اور روس جيسی بڑی طاقتيں طالبان حکومت کو تسليم کرليں تو پھر يورپ اس دوڑ میں کيسے پيچھے رہ سکتا ہے، برطانوی فوج کے سربراہ جنرل نک کارٹر کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ طالبان کو موقع دينا چاہيے، تاکہ وہ خود کو ثابت کريں کہ وہ بدل چکے ہيں۔ صرف ایک ہی ملک ایسا ہے جسے خطے میں امن سے تکلیف ہے، اور وہ ہے بھارت، لیکن اُس کے ہاتھ بھی اب کچھ نہیں رہا، افغانستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ڈوب چکی ہے، پاکستان میں دہشت گردی کرانے کیلئے جو کیمپ افغانستان میں قائم کیے گئے تھے، وہ آج ویران ہیں، جن طالبان کو وہ 20سال تک دہشت گرد اور عسکریت پسند کہتے رہے، وہ آج کابل کے تخت پر براجمان ہونے جا رہے ہیں۔

اجیت دوول کے سارے منصوبے چکنا چور ہوچکے ہیں اور بھارت آج خطے میں بالکل تنہا ہے۔ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش تک اُسے گھاس ڈالنے کو تیار نہیں، ایسے میں اُس سے یہ توقع کرنا کہ وہ امريکا کی ہاں ميں ہاں ملاتے ہوئے، چین اور روس سے پنگا لے گا، ایں خیال است و محال است و جنوں۔ چينی فوج نے لداخ ميں بھارتی سورماؤں کا جو حشر کيا ہے وہ سب کے سامنے ہے، اب تو بھارتی تجزيہ کار یہاں تک کہہ رہے ہيں کہ کہيں کشمير اُن کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔

جن ممالک نے اپنی چالیں چلنی تھی وہ چل چکے، اب امریکا اور اُس کے اتحادیوں کے پاس پھینکنے کیلئے کوئی پتہ نہیں۔ معاہدے کے تحت امریکی افواج کو 31اگست تک افغانستان سے نکلنا تھا لیکن جس طرح وقت سے پہلے اور رات کی تاریکی میں امریکی فوج بگرام ايئربيس سے نکلی ہے، یقینا کچھ نہ کچھ ایسا ہوا ہے، جس نے امریکا کو یہ کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور کیا ہے۔ سی این این پر یہ رونا دھونا چل رہا ہے کہ امریکا کے قیمتی ہتھیار جن میں بلیک ہاکس ہیلی کاپٹر، باردوی مواد، نائٹ وژن، چھوٹے سائز کے ڈرونز، جنگی گاڑیاں اور ہزاروں کی تعداد میں جدید اسلحہ افغانستان میں ہی رہ گیا ہے۔

طالبان اُس اسلحے کے ساتھ فلیگ مارچ کر رہے ہیں، کہیں امریکی صدر کا انخلاء کی تاریخ 31اگست سے بڑھانے پر اسرار اس سلسلے کی کڑی تو نہیں، کہيں امریکا اپنی بچی ہوئی چيزيں واپس لے جانے کيلئے تو پر نہيں تول رہا، اور کيا طالبان اُنہيں ايسا کرنے ديں گے؟

سنگلاخ چٹانوں پر 20 برسوں تک امریکا اور اُس کے اتحادیوں کا مقابلہ کرنے والے طالبان اب سیاسی داؤ پیچ بھی سیکھ چکے ہیں، سفارتی محاذ کیسے سنبھالنا ہے، میڈیا کا سامنا کیسے کرنا ہے، ہم سب دیکھ رہے ہیں، مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان، حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ جیسے لوگوں کو اپنے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانا، میڈیا اور خواتین کے لیے نرمیاں، اور سب بڑھ کر یہ کہ جو امریکی فوجی دن رات اُن پر بم برساتے تھے، اُنہیں بحفاظت اپنے ملک روانہ کرنا، یہ سب پتہ دیتا ہے کہ آج کا طالبان وہ نہیں جو نوے کے عشرے میں دکھائی دیتا تھا، آج کا طالبان پوری تیاری کے ساتھ میدان میں آیا ہے۔

ذرا سوچیئے، اگر سی پیک چل پڑے، افغان سرزمین میں موجود کھربوں ڈالرز مالیت کی معدنیات استعمال ہونے لگیں تو یہ خطہ کہاں جا پہنچے گا، آنے والا دور الیکٹرک گاڑیوں کا ہے جس میں بیٹری استعمال ہوتی ہے اور بیٹری میں لیتھیم، اور افغانستان لیتھیم کی دولت سے مالا مال ہے، یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں مستقبل میں جو گاڑیاں بنیں گی اُنہیں ایندھن خلیجی ممالک سے نہیں بلکہ کابل اور غزنی سے ملے گا۔ کاش جو ہم سوچ رہے ہیں ایسا ہی ہو جائے اور ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا، کیوں کہ بقول حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار، دشمن نے کوئی کسر نہيں چھوڑی، چاہے وہ داخلی دشمن تھے يا خارجی، سب ناکام ہوئے ہيں۔ ہم يہ باور کراتے ہيں کہ، ان شاء اللہ اب ہمیں آگے جانا ہے۔ افغانیوں کا قطعی يہ ارادہ نہيں کہ وہ دوبارہ پيچھے جائيں۔

TALIBAN

Tabool ads will show in this div