کراچی:کورنگی کی فیکٹری میں آگ لگنے سے17مزدور جاں بحق

فیکٹری میں تقریباً 20 مزدور کام کررہے تھے
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/KORNAGI-MAHRAN-TOWN-FIRE-1200-Khi-27-08.mp4"][/video]

کراچی کےعلاقے کورنگی مہران ٹاؤن کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی تعداد 17 ہوگئی۔ فیکٹری میں لگی آگ بجھانے کے بعد کولنگ کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا۔

کورنگی، مہران ٹاؤن کی فیکٹری میں جمعہ کی صبح  10 بجے آگ لگی، فیکٹری کے تنگ راستوں کے باعث آگ بجھانے میں ریسکیو اہلکاروں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا، عمارت کی کھڑکیوں پر جالیاں لگی ہونے اور دروازے بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ابتدائی طور پر فائربریگیڈ کی 3گاڑیوں کو آگ بجھانے کیلئے بھیجا گیا تاہم صورتحال کی سنگینی کے باعث مزید 5 گاڑیاں بھجوائی گئیں۔

امدادی ٹیموں کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں چچا بھتیجا اور دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کورنگی مہران ٹاؤن میں آتشزدگی کی شکار فیکٹری کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ضلع کورنگی نے بریفنگ دیتے ہوئے انہیں بتایا کہ آگ پر بروقت قابو پالیا گیا تھا، کولنگ کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا، متاثرہ فیکٹری سے 17 میتیں نکالی گئیں۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت دکھ کی گھڑی میں آپ کے ساتھ ہے، افسوسناک سانحے پر ہمارے دل دُکھی ہیں، واقعہ کی تحقیقات کروائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیا ہے، انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے۔

صبح 10 بجے آگ لگنے کے بعد فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کے اہل خانہ کی بڑی تعداد پریشانی کے عالم میں عمارت کے باہر جمع ہے، لوگ اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے رہے۔

چیف فائر آفیسر نے سماء کو بتایا کہ فيکٹری کی چھت کے راستے ميں تالا لگا ہوا تھا جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت کی پہلی منزل پر آگ لگی اور دوسری منزل پر پھنسنے والے مزدوروں کو باہر نکلنے یا چھت پر جانے کا راستہ نہیں ملا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مہران ٹاؤن فیکٹری میں لگنے والی آگ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی اور لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کرلی ۔

جس وقت سانحہ مہران ٹاؤن ميں جاں بحق مزدوروں کی ميتيں فیکٹری سے نکالی جارہی تھیں، ايک افسوسناک منظر بھی ديکھنے ميں آيا، امدادی اداروں کے کارکن ميتيں تحويل ميں لينے کیلئے گتھم گتھا ہوگئے، دونوں اداروں کے کارکنان میت کو اپنی گاڑی میں لے جانا چاہتے تھے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کی فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کردیا۔ انھوں نے یقین دلایا کہ اس واقعے کی انکوائری ہوگی اورحکومت ضرور ايکشن لے گی۔ واقعے میں ملوث کسی کو نہيں چھوڑيں گے اورکسی نے غفلت برتی ہے تو يہ بالکل بھی برداشت نہيں ہوگا۔مزدوروں کے تحفظ کے قانون پر عملدرآمد کو يقينی بنانا ہوگا۔

پاکستان انسٹيٹو ٹ آف ليبر ايجوکيشن اينڈ ريسرچ کے جوائنٹ سیکرٹری ذوالفقار شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ ميں صرف 18 ليبر انسپکٹر کام کررہے ہيں، ہماری ریسرچ کے مطابق ايک سال ميں آگ لگنے کے واقعات میں 30 سے زائد مزدور جاں بحق ہوچکے ہيں اور سب سے زیادہ واقعات کراچی میں پیش آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ديکھتے ہيں کراچی ہو يا کوئی اور شہر، ليبر قوانين پر عمل ہی نہيں ہوتا، رہائشی علاقوں ميں فيکٹرياں کھل جاتی ہيں، يہ سب چيک کرنا کس کی ذمہ دار ہے؟۔

korangi

Tabool ads will show in this div