تعلیم کیساتھ بچوں کی تربیت پربھی توجہ دینی ہوگی،وزیراعظم

بچوں کی صحیح تربیت نہیں کی جا رہی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مینار پاکستان پر ہونے والے واقعہ کی ویڈیو دیکھ کر افسوس ہوا۔ جو عورت کی عزت ہمارے یہاں ہوتی ہے، مغرب میں ایسی عزت نہیں۔ ہمیں بچوں کی بہتر تربیت کی ضرورت ہے۔

بچوں کی صحیح تربیت نہیں کی جا رہی

وزیراعظم کے مطابق جنسی جرائم اور اس طرح کی حرکتیں ہمارے دین اور ثقافت کا حصہ نہیں ہے لہٰذا بہت ضروری ہے کہ ہم ساتھ اپنے بچوں کی تربیت کریں جس ایک ہی طریقہ ہے کہ انہیں نبی اکرمﷺ کی زندگی سے آگاہ کریں، وہ دنیا میں سب سے عظیم انسان تھے، نہ کوئی آیا ہے، نہ کوئی آئے گا۔ ہمیں ٹیکنالوجی سکھانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تربیت بھی کرنی ہے، مینار پاکستان پر جو کچھ ہوا اس پر مجھے بہت شرم آئی، جو عورت کی عزت ہمارے یہاں ہوتی ہے، مغرب میں ایسی عزت نہیں دی جاتی لیکن حالیہ واقعات کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کی جا رہی۔

عثمان بزدار

پنجاب ایجوکیشن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے محکمہ تعلیم پنجاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت تھوڑا کام کرکے اس کی بہت زیادہ تشہیر کرتی تھی لیکن عثمان بزادر اتنا کام کرتے ہیں اور ان کی بالکل بھی تشہیر نہیں ہے۔ انہوں نے وہ کام کیے ہیں جو پورے پاکستان میں کسی صوبے نے نہیں کیے لیکن کسی کو پتا ہی نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھے کاموں میں عثمان بزدار اپنا نام سامنے لانا ہی نہیں چاہتے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کی کارکردگی کو بھی سراہا۔

تعلیم سے متعلق اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے کسی نے تعلیم پر زور نہیں دیا کیونکہ تعلیم کسی کی ترجیح ہی نہیں تھی اور پھر جمہوریت میں ہر پانچ سال کے بعد الیکشن ہوتا ہے اور 1988 سے 1999 تک صرف ڈھائی سال حکومت چلتی تھی تو جو بھی اقتدار میں آتا تھا وہ یہ سوچ کر کام کرتا کہ یہ پانچ سال میں مکمل ہو تو میں اس کے اشتہار دے کر اگلے انتخابات جیت جاؤں۔

ڈیموں کا مسئلہ

عمران خان نے کہا کہ نہ اس ملک میں ڈیم بنے، اگر ہم صرف ڈیم بنا دیتے تو ہمیں پانی سے سستی اور صاف بجلی مل سکتی تھی اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دو بڑے ڈیم جمہویر حکمرانوں نے نہیں بلکہ فوجی آمروں نے بنائے جس سے ملک کو بہت عرصے تک فائدہ ہوا لیکن اس کے بعد کسی نے نہیں سوچا کہ ہماری اگلی نسلوں کا کیا بنے گا اور ہم نے سب سے مہنگی بجلی درآمد شدہ ایندھن سے بنا لی۔

یکساں تعلیمی نظام

انہوں نے یکساں نظام تعلیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے نظام تعلیم میں انتہائی تھوڑے لوگوں کو انگریزی میڈیم کی تعلیم دی جاتی تھی لیکن وہ یہ نظام اس لیے لائے تھے تاکہ لارڈ میکالی کے بقول وہ ہو تو ہندوستانی لیکن وہ انگریز کی طرح سوچے اور اس کے ذریعے ہم برصغیر پر حکومت کریں ار ایک خاص تعلیمی نظام سے انہوں نے ایسے لوگ بنائے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسا لگا کہ مجھے انگلش پبلک اسکول بوائے بنایا گیا ہے، اس تعلیمی نظام نے مجھے میری ثقافت اور میرے دین سے دور کیا اور جہاں بھی انگریزوں نے حکومت کی تو انہوں نے انگریزی میڈیم تعلیم کو عام کیا۔ انگریزی میڈیم تعلیم ہمارے اندر ذہنی غلامی لے کر آئی اور جب ہم ایک نصاب کی بات کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو پیچھے لے کر جا رہے ہیں، چین اور جاپان میں کتنے نصاب ہیں، جو بھی ملک ترقی کر رہے ہیں وہ ایک نصاب کے ساتھ قوم بناتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آزادی کے بعد اصولاً سب سے پہلا اپنا نظام تعلیم ٹھیک کرنا چاہیے تھا اور ایک ہی نصاب لانا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے ہم تین طرف نکل گئے، ایک طرف دینی مدرسے چلے گئے، ایک طرف اردو میڈیم اور چھوٹے سے طبقے کو انگلش میڈیم تعلیم دی گئی اور انگریزی میڈیم میں بھی تعلیم کے بجائے دیسی ولایتی بنانے پر زیادہ زور تھا۔

وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں ایک چھوٹے سے نجی اسکول کے کلچر نے ترقی تو کی لیکن انہوں نے ہمیں دوسرے کلچر کا غلام بنا دیا اور ملک میں یکساں نصاب تعلیم ایک اہم موڑ ہے اور بہت بڑی تبدیلی ہے لیکن یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو گا۔ ٹیکنالوجی سے ہم کرپشن پر قابو پا سکتے ہیں جو اس ملک میں نیچے تک سرایت کر چکی ہے، ہم ایف بی آر کو خودکار کرنا چاہتے ہیں اور خودکار ہونے سے کرپشن نیچے آتی جائے گی۔

IMRAN KHAN

Minar e Pakistan

Tabool ads will show in this div