کیا اب گٹھلیاں آم سےمہنگی بکیں گی؟

بہاءالدین زکریایونیورسٹی کےمینگو آئل پراسیسنگ یونٹ کا آغاز

آم کی گھٹلیوں کو ناکارہ تصور کرنے کا زمانہ گیا کیوں کہ  اب ان سے تیل نکالا جائے گا جس پر ملتان کی زکریا یونیورسٹی نے کام بھی شروع کردیا ہے۔

بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں پاکستان کے پہلے مینگو آئل پراسیسنگ یونٹ نے کام شروع کر دیا جہاں خشک کی گئی آم کی گٹھليوں سے تيل تيارکيا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فوڈ سائنسز ڈیپارٹمنٹ، پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کا کہنا ہے کہ آم کی گٹھلیوں سے حاصل ہونے والا آ ئل انٹرنیشنل مارکیٹ میں کافی ڈیمانڈ حاصل کر چکا ہے۔

ایچ ای سی نے ابتدائی طور پر فوڈ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں ایک پلانٹ نصب کيا ہے جہاں طلباء کو ریسرچ میں بھی مدد مل رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کی گھٹلیوں سے تيار کردہ تیل جلد کے لیے مفيد ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس میں میں بائیو ایکٹیو کمپونٹ بہت زیادہ پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ جلد پر سیاہ دھبوں و دیگر مسائل کے حل کے لیے مفید ہے۔

انٹرنیشنل سطح پر اگر مینگو آ ئل کی مارکیٹنگ کی جائے تو اس سے یونیورسٹی کے ریونیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

Bahauddin Zakariya University

Tabool ads will show in this div