کالمز / بلاگ

پنج شیر اب تک ناقابل تسخیر کیوں ہے؟

یہ علاقہ روسی فوج،طالبان کبھی فتح نہیں کرسکے

طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت ملک کے 33 صوبوں پر قبضہ کرلیا ہے تاہم ایک صوبہ پنج شیر اب تک ناقابل تسخیر ہے۔ پنج شیر اس وقت طالبان مخالف قوتوں کا گڑھ بن گیا ہے اور اب اس شہر میں احمد شاہ مسعود اور سابق افغان نائب صدر امرللہ صالح بچی کچھی افغان فوج اور مقامی ملیشیا کی قیادت کررہے ہیں۔ آخری اطلاعات تک طالبان کی جانب سے دی گئی ڈیڈلائن کے خاتمے کے بعد طالبان جنگجوؤں نے پنج شیر کی جانب بڑھنا شروع کردیا ہے اور اس کے کچھ حصوں میں دونوں گروپوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ ویسے تو جعرافیہ اور محل وقوع کے اعتبار سے پورا افغانستان ایک مشکل جگہ ہے لیکن پنج شیر پورے ملک کا ایک پیچیدہ صوبہ ہے جہاں سڑکوں کا نظام نہ ہونے کے برابر اور پورا خطہ پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ وادی پنج شير کو اس کا محل وقوع دفاعی اعتبار سے مضبوط بناتا ہے وادی تک رسائی صرف دريائے پنج شير کے ساتھ ايک تنگ راستے سے ممکن ہے۔ پنجشیر کی وادی مشہور ہندوکش پہاڑی سلسلے کے ساتھ واقع ہے جبکہ دریائے پنچ شیر افغانستان کے اہم دریاؤں میں سے ایک ہے۔ پنج شیر اوسطً سطح سمندر سے 2200 میٹر کی بلندی پر واقع ہے جبکہ اس کے بعض مقامات سطح سمندر سے 6 ہزار میٹر کی بلندی پر بھی ہیں۔ پنج شیر وادی میں زمرد کی کان کنی اور افغانستان کے لیے توانائی کا ایک بڑا مرکز بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ پنج شیر ہمیشہ ایک اہم شاہراہ رہا ہے، تقریباً 100 کلومیٹر لمبا یہ ہندوکش کے دو راستوں کی طرف جاتا ہے۔ خاوک پاس شمالی میدانی علاقوں کی طرف جاتا ہے اور انجمن پاس بدخشان میں داخل ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم اور تیمور کی فوجوں نے انہیں استعمال کیا تھا۔ یہ خطہ دریاؤں اور ندیوں کے ایک پیچیدہ نظام پر مشتمل ہے جو گھاٹیوں سے گزرتا ہے لہذا وہ جنگ کے دوران ایک بہترین قدرتی پناہ گاہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ علاقہ ایک قلعے کی صورت میں ہے جس کے باعث یہ بیرونی حملہ آوروں کے لیے ہمیشہ سے ایک مشکل محاذ ثابت ہوا ہے۔ جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو سوویت افواج کو یہاں پر سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور متعدد کوششوں کے باوجود وہ اس وادی پر قبضہ نہیں کرسکے تھے اور یہ وادی روسی فوجیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا تھا۔ سوویت فوج کے انخلاء کے بعد بھی اس حصے میں تناؤ برقرار رہا پہلے افغان حکومت کے ساتھ محاذ آرائی اور بعد میں طالبان تحریک کے ساتھ۔ جو سن 1994 میں افغانستان کے پشتون اکثریتی علاقوں میں شروع ہوئی تھی تاہم طالبان بھی اپنے دور اقتدار میں پنج شیر کا کنٹرول حاصل نہیں کرسکے تھے۔

مزید جانیے: کیا احمدمسعود والد کی طرح طالبان سےپنج شیر بچالیں گے؟

پنج شیر افغان کی دوسری بڑی قومیت تاجک باشندوں کا ایک تاریخی مسکن ہے جس کی آبادی 2 لاکھ کے قریب ہے۔ تاجک نسل کے لوگ اپنی دفاعی لائن کابل شہر کو مرکز کے طور پر تصور نہیں کرتی اس کی جغرافیائی لکیر وادی پنجشیر، درہ سالانگ، بدخشاں، بامیان، سرے پل اور بلخ پر مشتمل ہے ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر کابل طالبان کے قبضے میں آ جائے لیکن یہ لوگ اپنی تاریخی مسکن کو کسی اور کے قبضے میں نہیں دینا چاہتے۔ چونکہ طالبان میں اکثریت پشتون ہیں اور یہ بات یہاں کہ باشندوں کو طالبان کیخلاف لڑنے کی ترغیب دیتی ہے جبکہ خطے کا جعرافیہ لڑنے اور دفاع میں مدد فراہم کرتا ہے۔

AFGHAN TALIBAN

Panjshir

Tabool ads will show in this div