ٹک ٹاک پرپابندی،ہائیکورٹ کا پی ٹی اے پر اظہارِبرہمی

ٹک ٹاک سےبات چیت چل رہی ہے اورجلد ہی پابندی ختم کر دیں گے

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/IHC-Tik-Tok-Case-Isb-Pkg-23-08.mp4"][/video]

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا پی ٹی اے ملک کو 100 سال پیچھے لے جانا چاہتی ہے؟۔

پیر کو ٹک ٹاک پر پابندی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سوشل میڈیا ایپس پر پابندی باہر کی دنیا میں کیوں نہیں عائد کی گئی ہیں اورکیا وفاقی حکومت نے پابندی کا حکم دیا تھا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پالیسی کے حوالے سے میٹنگ ہوئی تھی مگر ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔عدالتی استفسار پر پی ٹی اے وکیل نے بتایا کہ ملک میں 99 فیصد لوگ پراکسی کے ذریعے ٹک ٹاک استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ اس پرعدالت نے کہا تو پھر 1 فیصد کے لیے پابندی کیوں عائد کی گئی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی اے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے اور اگر آپ بند کرنا چاہتے ہیں تو سب کچھ بند کردیں۔پی ٹی اے کے وکیل نے عدالتی فیصلوں کو اپنی مجبوری بتایا توعدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنی کوتاہی کے لیے عدالتوں کو الزام مت دیں۔

ٹک ٹاک پرپابندی لگانےپرپی ٹی اےوکیل عدالت کومطمئن نہ کرسکے،ہائیکورٹ

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ایسا چلتا رہا تو چیئرمین پی ٹی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کریں گے۔ اس پرپی ٹی اے کے وکیل نے بتایا کہ ٹک ٹاک سے بات چیت چل رہی ہے اور جلد ہی پابندی ختم کر دیں گے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 20 ستمبر تک ملتوی کردی۔ایم کیو ایم رہنما میاں عتیق کی مرکزی درخواست میں فریق بننے کی درخواست بھی منظور کر لی گئی۔

دو ہفتے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف کیس کے تحریری حکم نامے میں کہا تھا کہ سیکریٹری آئی ٹی رپورٹ دیں کیوں کہ چند صارفین  کی خلاف ورزی کی وجہ سے معروف ایپس پرپابندی کی حکومتی پالیسی کیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا  کہ  ٹک ٹاک پر پابندی کیوں لگائی گئی،اس سلسلے میں پی ٹی اے وکیل عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔عدالتی آرڈرز پڑھنے کے بعد واضح ہوا کہ ٹک ٹاک پر پابندی کا کسی عدالت نے حکم نہیں دیا۔

ISLAMABAD HIGH COURT

TIK TOK

Tabool ads will show in this div