افغان خواتین کو پردےپرطالبان کےلیکچر کی ضرورت نہیں،ملالہ

پاکستان افغانیوں کیلئے بارڈر کھول دے،افغان ٹی وی کو انٹریو

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین پردے کا فیصلہ خود کرسکتی ہیں اور انہیں اس معاملے میں طالبان کے کسی لیکچر کی ضرورت نہیں۔ افغان ٹی وی طلوع پر دیے گئے حالیہ انٹرویو میں ملالہ یوسفزئی نے طالبان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے کاموں سے گریز کریں جن سے یہ تاثر ابھرے کہ دین اسلام زبردستی کا قائل ہے۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بندے کے ایمان کا فیصلہ اللہ پاک کرتے ہیں اور اسلام میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان معاشرہ پہلے سے ہی اسلامی ہے اور وہاں طالبان سے پہلے بھی کوئی غیراسلامی نظام رائج نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے وہ رہنما جو ملک سے باہر رہے ہیں ان کے خواتین کے حقوق کے حوالے سے بیانات مثبت ہیں لیکن یہ فی الحال صرف زبانی باتیں ہی ہیں اب ان پر کس حد تک اس پر عمل کیا جاتا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ میں ان حالات سے گزرچکی ہوں جس سے اس وقت افغان خواتین گزر رہی ہیں، سوات میں بھی طالبان نے شریعت کا دعویٰ کیا تھا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ انہوں نے لڑکیوں کے اسکولز بند کردیے اور لوگوں کو بازاروں میں کوڑے لگائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے سوات میں 400 اسکولوں کو بند کیا اور لوگوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت 11 سال کی تھی اور اپنے مستقبل کا خواب دیکھ رہی تھی مگر ہم سے پڑھنے کا حق چھینا گیا اور سوات کے لوگوں کو علاقہ بدر کیا گیا۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ میں افغان خواتین کے حقوق کے لیے پریشان ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ طالبان دوبارہ وہ سب کریں جو انہوں نے اپنے پہلے دور حکومت میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کہتے ہیں کہ ہم سے غلطیاں ہوئیں تو میں حیران ہوں کہ وہ مزید کتنی غلطیاں کریں گے۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ طالبان کہتے ہیں کہ وہ خواتین کو شریعت کے مطابق حقوق دیں گے لہٰذا انہیں اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ کون سے کام ہوں گے جن کی خواتین کو اجازت ہوگی اور کن کی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس معاملے میں خواتین کو بھی سنا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ صرف چند مرد اپنے طور پر اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ خواتین کو کون سے حقوق دیے جائیں گے۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ طالبان نے اپنے پہلے دور حکومت میں خواتین کو روزگار اور لڑکیوں کو تعلیم سے روک دیا تھا اور خواتین کو سرعام کوڑوں کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان خواتین کو چاہیے کہ اپنے حقوق کےلیے آواز اٹھائیں اور اپنے تعلیم اور روزگار کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں اور روکے جانے کی صورت میں وہ ببانگ دہل کہیں کہ یہ حق انہیں اسلام نے دیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان امن عمل میں اہم کردار ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ تحفظ کی تلاش میں سرگرداں افغان عوام کے لیے بارڈر کھول دے اور مہاجر کیمپوں میں لڑکیوں کی تعلیم کا بندوبست بھی کرے۔ انہوں نے کہا کہ جو اسلحہ طالبان نے اٹھایا ہے اس کا بوجھ افغان عوام کے کندھوں پر ہے کیوں کہ لوگ 40 سالہ جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور اب وہ صرف امن چاہتے ہیں۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جہموریت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے جس کی اسلام میں بھی اجازت ہے اس لیے یہ فیصلہ افغان عوام کریں کہ ان کا صدر اور وزیراعظم کون ہوگا۔

AFGHAN TALIBAN

malala yousafzai

Tabool ads will show in this div