حکیم اللہ محسود کو جمعرات کی شب ہلاک کیا گیا،امریکا کا دعویٰ

اسٹاف رپورٹ
واشنگٹن : امريکا نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو جمعرات کو ہلاک کیا گیا تھا۔

کالعدم تحريک طالبان پاکستان کے سربراہ حکيم اللہ محسود کو میزائل حملے میں ہلاک کیا گیا۔ کالعدم طالبان نے بھی ہلاکت کی تصديق کردی۔ ٹی ٹی پی کے مطابق حکيم اللہ کی لاش مسخ ہوگئی تھی تاہم ساتھيوں نے اسے شناخت کرليا۔ 

شمالی وزيرستان کے علاقے ڈانڈے درپا خيل علاقے میں میزائل نے اس وقت ايک گھر اور گاڑی پر جمعہ کو چار ميزائل داغے جب حکیم اللہ وہاں موجود تھا يہ علاقہ ميرانشاہ سے تين کلوميٹر دور پاک افغان سرحد پر واقع ہے۔  ميزائل حملوں ميں حکيم اللہ محسود کا انتہائی بااعتماد ساتھی، ڈرائيور طارق محسود، چچا اور ایک نامعلوم شخص بھی ہلاک ہوا۔ 

حکيم اللہ محسود سميت پانچوں افراد کو رات گئے نامعلوم مقام پر سپرد خاک کردیا گیا۔ جس علاقے میں میزائل حملہ کیا گیا وہاں آج پاکستان کے مذاکراتی وفد کو جانا تھا۔ ميزائل حملے سے پہلے ہی طالبان نے لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کي ہدايت کی تھی اور پمفلٹ بھی تقسيم کئے گئے تھے۔ 

امريکی انٹيلی جنس ذرائع نے بھی حکيم اللہ کی ہلاکت کی تصديق کی ليکن امريکی خبر ايجنسی نے انٹيلی جنس ذرائع سے دعوی کيا ہے کہ يہ ہلاکت جمعرات کے ميزائل حملے ميں ہوئی۔ 

حکیم اللہ محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے گاؤں کوٹکی سے بتایا جاتا ہے۔  وہ ذوالفقار محسود کے نام سے بھی مشہور تھا۔ تاہم اس کا اصل نام جمشید تھا۔ حکیم اللہ نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی البتہ ہنگو کے گاؤں شاہو کے مدرسے سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی جہاں وہ بیت اللہ محسود کے ساتھ پڑھتا تھا۔ تاہم تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی دونوں نے مدرسہ چھوڑ دیا تھا۔ سماء

کی

کا

کو

Obama

jirga

risks

Tabool ads will show in this div