کیا برآمدات میں اضافے کی وجہ کرنسی کی قدر میں کمی ہے؟

بنگلادیشی ٹکا مستحکم، روپے کی قدر میں کمی

بنگلا دیش کی کرنسی مستحکم، لیکن برآمدات دگنی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کی برآمدات کا موازنہ کرنے والے ایک مطالعے کے مطابق کرنسی کی قدر میں کمی ایک ترقی پذیر ملک کی برآمدات میں اضافہ کرتی ہے۔

ایک مطالعے کے مطابق پچھلے کچھ عرصہ میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوئی جبکہ بنگلہ دیش کی کرنسی ٹکا مستحکم رہی، اسکے باوجود بنگلہ دیش کی برآمدات دگنی ہوئی لیکن پاکستان کی برآمدات دس سال کی مستحکم سطح پر برقرار ہے۔

ایک تجزیہ کار کے مطابق پچھلے 10 سالوں کے دوران بنگلہ دیش کی برآمدات 23 ارب ڈالر سے بڑھ کر 39 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر پر مستحکم ہے۔

درحقیقت پاکستان کی برآمدات کچھ سالوں کے لیے 25 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئی ہیں جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ کرنسی کی قدر میں کمی ہمیشہ برآمدات بڑھانے میں مدد نہیں کرتی۔ اسکے پیچھے یقینا کچھ اور عوامل بھی ہیں۔

معاشی کتابوں کے مطابق جب کسی ملک کی کرنسی بین الاقوامی کرنسی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے جو کہ امریکی ڈالر ہے ، یہ ڈالر کے مقابلے میں ملک کے لیے مزدوری اور خام مال جیسےاخراجات کو سستی کرتی ہے۔

گزشتہ دس سالوں کے دوران پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 87 روپے سے 164 روپے تک گرگیا ہے۔ بنگلہ دیش کا ٹکا نسبتا مستحکم رہا ہے۔

گزشتہ 10 سال پہلے ایک ڈالر کی قیمت 75 روپے تھی اور اس وقت اس کی قیمت 85 روپے ہے۔

BANGLADESH

currency rate

Tabool ads will show in this div