ہم انتہائی معذرت خواہ ہیں بہن

مینارپاکستان واقعہ پرشوبزشخصیات کا غم وغصہ

مینار پاکستان پر 400 افراد کے ہجوم کے ہاتھوں خاتون پرحملہ آور ہوکرہراساں کرنے کا واقعہ ہرذی عقل کیلئے انتہائی پریشان کن ہے ۔ شوبز شخصیات نے بھی اپنے سوشل ہینڈلز پرغم وغصے کا اظہارکرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کیلئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پرگزشتہ روز وائرل ہونے والی ویڈیومیں دیکھا گیا کہ پاکستان کے یوم آزادی پرلاہورکے مینارپاکستان میں ساتھیوں کے ہمراہ ٹک ٹاک ویڈیو خاتون کوہراساں کرنے والا ہجوم اچانک ہی انہیں گھیر لیتا ہے۔ایک ویڈیو میں ہجوم کی جانب سے خاتون کو ہوا میں اچھالتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

ویڈیو منظرعام پرآنے کے بعد سوشل میڈیا پربحث کا آغازہوا کہ ملک کے بڑوں شہروں میں بھی خواتین کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ شوبزستاروں اور سیاسی رہنماوں سمیت زنگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

اداکارہ ماہرہ خان نے عورتوں کے لباس سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے سابقہ بیان کے تناظر میں طنزیہ اندازمیں لکھا ' معافی چاہتی ہوں، میں بھول جاتی ہوں، یہ اس (متاثرہ خاتون ) کا قصورہے۔ 400 معصوم آدمی مدد نہیں کرسکتے تھے۔

سجل علی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خاتون ٹک ٹاکر کا قصور پوچھا۔

اداکارآغا علی نے کہا کہ یہ 400 مرد نہیں ، 400 جانور تھے اور یہ ہراسانی نہیں جنسی دہشتگردی تھی۔ ہم انتہائی معذرت خواہ ہیں بہن، اللہ ہم سب پررحم کرے۔

احمد علی بٹ نے واقعے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ وہ انتہائی دل گرفتہ ہیں۔

فرحان سعید نے ٹویٹ میں لکھا ' مایوس ، غصہ ، دل شکستہ ، شرمندہ! مجھے اپنے آدمی ہونے پر شرمندگی ہے ، شرم آتی ہے کہ اس ملک کے مرد ہر دوسرے دن یہ خوفناک حرکتیں کرتے رہتے ہیں ، شرم آتی ہے کہ میرے ملک کا قانون انہیں پھانسی نہیں دیتا تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو'۔

انوشے اشرف نے ویڈیو دیکھنے کے بعد خود کو ہارا ہوا محسوس کرتے ہوئے لکھا' ایک وقت تھا جب مجھے محسوس ہوتا تھا کہ کہ اگر کوئی آدمی مجھے پبلک میں ہراساں کرے تو میرے ملک میں 10 اور آدمی میری حفاظت کے لیے آگے بڑھیں گے'۔

منشاء پاشا نے لکھا کہ ' وہ وہاں کیوں تھی اور کیا پہنا تھا جیسا ڈرامہ اب پرانا ہوگیا ہے۔ صحیح سے ایک ہی دفعہ بول دو ہم عورتوں کی حفاظت کیلئے کچھ نہیں کرسکتے اور چاہتے ہیں کہ عزتیں چھینے رہیں کیونکہ ہم ایسا کرسکتے ہیں'۔

عمران عباس، عثمان خالد بٹ، مریم نفیس ، قرت العین بلوچ نے بھی واقعے کی مذمت کی۔

ماورہ حسین نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بار بھی لباس ہی وجہ تھا؟۔

افسوسناک واقعے پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، ان کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو نے آواز اٹھائی۔

 

پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں 400 نامعلوم افراد کے خلاف لاہور کے تھانہ لاری اڈہ میں مقدمہ درج کرلیا ہے جس میں دفعہ 354 اے، 382، 149 اور 147 شامل کی گئیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق 14اگست کی شام ساڑھے 6 بجے خاتون اپنے ساتھیوں کے ساتھ اقبال پارک میں مینارکے قریب یوٹیوب ویڈیو بنا رہی تھی کہ اچانک وہاں موجود 300 سے 400 افراد کا ہجوم چڑھ دوڑا۔ خاتون کے ساتھ کھینچا تانی کی گئی یہاں تک کہ ان کے کپڑے تک پھاڑ دیے۔ کافی لوگوں نے مدد کی کوشش کی لیکن ہجوم بہت زیادہ تھا۔ کچھ لوگ خاتون کو ہوامیں اچھالتے رہے۔

مطابق ملزمان نے 15ہزار روپے، موبائل فون اور زیورات بھی چھینے۔ پوليس کا کہنا ہے کہ فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سی سی پی او سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاتون کو ہرقیمت پرانصاف فراہم کیا جائے۔

harrassment

MINAR E PAKISTAN INCIDENT

Tabool ads will show in this div