لاہور: خاتون پرحملہ، ہراساں کرنےپر 400افراد کیخلاف مقدمہ درج

خاتون جشن آزادی پرمینار پاکستان کے قریب یوٹیوب ویڈیوبنارہی تھی
Aug 18, 2021
فوٹو: سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سے لی گئی تصویر
فوٹو: سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سے لی گئی تصویر
[caption id="attachment_2358739" align="alignnone" width="800"]Lahore woman harassment فوٹو: سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سے لی گئی تصویر[/caption]

لاہور کے اقبال پارک میں یوم آزادی کے موقع پر خاتون پر حملہ اور ہراساں کرنے پر پولیس نے 400 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمہ لاہور کے تھانہ لاری اڈہ میں درج کیا گیا جس میں دفعہ 354 اے، 382، 149 اور 147 شامل کی گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے اس سے 15ہزار روپے، موبائل فون اور زیورات بھی چھین لیے۔ پوليس کا کہنا ہے کہ فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

خاتون کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ 14اگست کی شام ساڑھے 6بجے خاتون اپنے ساتھی کے ساتھ اقبال پارک میں مینار کے قریب یوٹیوب ویڈیو بنا رہی تھی اچانک وہاں موجود 300 سے 400 افراد کا ہجوم ہم پر چڑھ دوڑا۔

مقدمے کے متن کے مطابق اسی دوران لوگ خاتون کے ساتھ کھینچا تانی کر رہے تھے یہاں تک خاتون کے کپڑے تک پھاڑ دیے۔ کافی لوگوں نے خاتون کی مدد کی کوشش کی لیکن ہجوم بہت زیادہ تھا جبکہ کچھ لوگ خاتون کو اٹھا کر ہوا میں اچھالتے رہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کو ہجوم خاتون پر حملہ اور ہراساں کر رہا ہے اور اسی دوران ہجوم اچانک ہی خاتون کو گھیر لیتا ہے۔

ایک ویڈیو میں ہجوم کی جانب سے خاتون کو ہوا میں اچھالتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے۔

ترجمان وزیراعلیٰ فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے دست درازی کا واقعہ شرمناک ہے۔ ویڈیو کی مدد سے ملوث ملزمان کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور حکومت ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔

فیاض چوہان نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ماں، بہن اور بیٹی کی عزت سانجھی سمجھی جاتی ہے۔

زلفی بخاری نے ٹویٹ میں بتایا کہ لاہور واقعے پر وزیرعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رابطہ کیا جس پر انہوں نے وزیراعظم کو واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

زلفی بخاری نے لکھا کہ یہ قوانین اور سماجی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں، ان واقعات میں ملوث کسی ایک فرد کو بھی نہیں چھوڑے گی۔ خاتون اور رنجیت سنگھ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والوں کو پولیس گرفتار کر رہی ہے۔

ٹویٹر پر لوگوں کی جانب سے شدید ردعمل دکھائی دے رہا ہے۔ ٹویٹر صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو سرعام پھانسی دینی چاہیئے جبکہ کسی نے واقعے کو مینار پاکستان کی بے حرمتی بھی قرار دیا ہے۔

MINAR E PAKISTAN INCIDENT

Tabool ads will show in this div