طالبان کی پیش قدمی پر امریکا بھی حیران،اندازے غلط ثابت

ڈونلڈ ٹرمپ کا جوبائیڈن سے استعفے کا مطالبہ
Aug 16, 2021
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/BIDEN-CLAIM-UPD-SOT-15-08.mp4"][/video]

امریکی انتظامیہ طالبان کی پیش قدمی پر حیران ہے کیوں کہ اس حوالے سے اس کے سارے اندازے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ کچھ دن قبل جب امریکی صدر جوبائیڈن سے صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ انٹيلی جنس کا تجزيہ ہے کہ افغان حکومت گرجائے گی تو انہوں نے ان اندازوں کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ يہ باتیں سچ نہيں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ايسے حالات کبھی نہيں ہوں گے کہ لوگوں کو سفارت خانوں کی چھتوں سے ريسکيو کيا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کہ طالبان ہر طرف چھا جائيں گے اور پورے ملک پر قبضہ کرليں گے۔ تاہم جو بائیڈن کی کہی گئی وہ تمام باتیں غلط ثابت ہوگئیں۔ جب صحافی نے امریکی صدر سے پوچھا کہ کيا طالبان کا افغانستان پر قبضہ ناگزير ہے؟ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ نہیں ایسا نہیں ہے کیوں کہ افغان فوج کی تعداد 3 لاکھ ہے اور وہ جدید اسلحے سے لیس ہے جبکہ طالبان کی تعداد صرف 75 ہزار ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار جو بائیڈن کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جو کچھ کرنے کی اجازت دی گئی اس پر شرمسار ہوتے ہوئے جوبائیڈن کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ دریں اثناء برطانوی وزيراعظم بورس جانسن کہتے ہيں کہ افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ نہيں بننا چاہيے۔

Afghan and US

Tabool ads will show in this div