نور مقدم کیس: فرانزک رپورٹ میں نئے انکشافات، مزید گرفتاریاں

تھراپی سینٹر کا مالک بھی گرفتار

نور مقدم قتل کیس کی فرانزک رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے بعد تھراپی سینٹر کے مالک سمیت مزید 6 افراد گرفتار کرلیے گئے۔ پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹ میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے علاوہ کسی دوسرے شخص کےفنگر پرنٹس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ ملنے والے انگلیوں کے نشانات کس کے ہیں یہ معلوم کرنے کے لیے پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ نئے فنگر پرنٹس کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے تھراپی سینٹر کے مالک سمیت مزید 6 افراد کو گرفتار کرکے شامل تفتیش کرلیا گیا۔ دریں اثناء جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر شریک ملزمان کی عدالت میں پیشی ہوئی جس کے دوران پولیس کی 2 ملازمین افتخار اور جمیل کے ڈی این ٹیسٹ کی اجازت دینے کی استدعا کو عدالت نے منظور کرلیا۔ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو احاطہ عدالت میں تو لایا گیا لیکن پیشی کے بجائے بخشی خانے میں رکھا گیا۔ عدالت نے ظاہر جعفر کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کرتے ہوئے تمام ملزمان کو دوبارہ 30 اگست کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ مقتولہ کے والد کارروائی میں پیشرفت سے تو مطمئین ہیں لیکن انہوں نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں نئے شواہد کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ آلہ قتل سے کسی اور کے فنگر پرنٹس ملنے کا کیا فائدہ جب قاتل خود موجود ہے۔

NOOR MUKADAM

Noor Muqaddam Murder Case

Tabool ads will show in this div