رحیم یارخان:سانحہ بھونگ کےباعث نقل مکانی کرنےوالےہندوخاندان واپس لوٹ آئے

دکانوں پر لگے تالے کھل گئے
Aug 16, 2021

رحیم یارخان سانحہ بھونگ کے باعث نقل مکانی کرنے والے ہندو خاندان گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں اوردکانوں پر لگے تالے کھل گئے ہیں۔

رحیم یارخان کے علاقے بھونگ میں کاروبارِ زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مندر کے بحال ہونے کی یقین دہانی اور تحفظ کے بعد بھونگ سے نقل مکانی کرکے جانےوالے 120 میں سے 70 خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں۔بھونگ شریف میں ہندوؤں کی 90 میں سے 60 دکانیں کھل چکی ہیں جبکہ صرف 30 دکانیں کھلنا باقی ہیں۔ہندو برادری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے ہندو امن پسند ہیں اور امن و ہم آہنگی کے فروغ اور ملکی سلامتی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

 تیرہ اگست کو سپریم کورٹ نے بھونگ مندر واقعے میں ملوث ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت اور ان سے ایک ماہ میں ریکوری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مندر کو پہنچنےوالے نقصان کی رقم ریکور کرکے مندر انتظامیہ کو دی جائے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آگاہ کیا گیا ہے کہ کچے میں موجود ڈاکو لوگوں کو دھمکیاں دینے کے علاوہ املاک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔عدالت نے آئندہ سماعت پرکمشنر بہاولپور اور ڈی سی رحیم یارخان کو طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ استغاثہ ٹرائل کورٹ میں گواہان کی موجودگی یقینی بنائے۔

سپریم کورٹ نے کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے کلیئر کرانے کا حکم دیا اور ریمارکس دئیے کہ ڈاکوؤں سے کلیئر کروا کرکچے میں امن بحال کیا جائے۔پنجاب حکومت اور آئی جی کچے میں سکیورٹی یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان بنے اتنا عرصہ ہوگیا ہے اور ہم ڈاکوؤں سے جان نہیں چھڑوا سکے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نےبتایا کہ کچے کا علاقہ سندھ کیساتھ بھی لگتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہر طرف سے مل کر کارروائی کریں تو کیسے نہیں کام ہوتا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں ہندو بچے کو گرفتار کرنے والے ایس ایچ او کا کیا بنا؟۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایس ایچ او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اورمحکمانہ کارروائی جاری ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایس ایچ او کا گرفتاری سے انکار نہ کرنا اعتراف جرم ہے، اعتراف جرم کے بعد شوکاز دیں اور فارغ کریں، انکوائری کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پولیس افسر تعلقات کی بنیاد پر ایس ایچ او تعینات ہوتے ہیں،کارروائی سست روی سے ہوئی تو ایس ایچ او کہیں نکل جائے گا،تعلقات پر لگنے والا ایس ایچ او علاقے میں چوہدراہٹ کرتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ یہ مسئلہ ہندو مسلم کا نہیں بلکہ انتظامیہ کی نیت کا ہے، ژوب میں مندر بحال ہوئے تو مقامی عالم مہمان خصوصی تھے۔

سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ مانگ لی اور کہا کہ آئی جی پنجاب بھی 1 ماہ میں رپورٹ جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے مندر پر حملے کے ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت کا حکم دےدیا اور کہا کہ ملزمان کی شناخت کے بعد گرفتار بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے۔ملزمان کی شناخت کے بعد ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کیا جائے اورٹرائل کورٹ بغیر کسی التواء کے 4 ماہ میں فیصلہ یقینی بنائے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ آگاہ کیا گیا کہ مندر کے اندرونی حصے کی بحالی مکمل ہوچکی ہے اورمندر کے بیرونی حصے کو 1 ماہ میں مکمل کیا جائے۔

عدالت نے گاؤں بھونگ میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی برقرار رکھنے کی ہدایت کردی۔ازخودنوٹس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی گئی۔

جمعرات کو رحیم یارخان میں بھونگ مندر کے دورے کےموقع پر آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے صحافیوں سے بات چیت کی ۔ انھوں نے بتایا کہ بھونگ میں گھنیش مندر سمیت امام بارگاہ کا دورہِ کیا۔ بھونگ دورے کا مقصد شیعہ اورہندو برادری کی سیکورٹی کو یقینی بنانا تھا۔ اقلیتوں سمیت تمام فرقوں کی حفاظت کرنا اہم ہے اورمقامی انتظامیہ کی کاوشوں سے ہندو برادری مطمئن ہےاور انھوں نےاطمینان کا اظہار کیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ بھونگ سے گئے ہندو برادری کے افراد کو گھر واپس آجانا چاہئے اور پولیس ان کو سیکورٹی فراہم کرے گی۔بھونگ کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں سب لوگ باہمی اتحاد سے رہتے ہیں اورحکومت پاکستان اور پنجاب پولیس اہل تشیع اور ہندو کمیونٹی کے ساتھ ہے۔

انعام غنی نے کہا کہ مندر کے نقصان پورا کردیا گیا ہے اور یہ پولیس اورانتظامیہ کی بہترین کاوش ہے۔پولیس کے پاس جو انفارمیشن آئے گی اس کی بنیاد پرکاروائی کریں گے۔اس سانحہ کی 3 ایف آئی آر درج کی ہیں اور تینوں ایف آئی آر میں ملزمان کو سزا دلائیں گے۔

آئی جی پنجاب نےواضح کیا کہ اس سے پہلے کبھی بھی کسی کوسزا نہیں ہوئی مگراب سزا ہوگی۔اس کےعلاوہ مدرسے کی انتظامیہ کی جانب سےدائرمقدمات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اورجو شواہد ملے ہیں ان پر کاروائی جاری ہے۔سپریم کورٹ پہلے بھی ایسے معاملات کا نوٹس لے چکی ہے اور اقلیتوں کے لیے سیکورٹی پلان کی سمری وزیر اعلی پنجاب کو بھیج چکے ہیں۔

انعام غنی نے یقینی دلایا کہ اقلیتوں کی جتنی بھی عبادت گاہیں ہیں وہاں مستقل سیکورٹی دیں گے۔ پولیس نےبھونگ کے حالات کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اورامید ہے کہ سپریم کورٹ ہمارے اقدامات سے مطمئن ہوں گی۔

بدھ کو بھونگ میں اقلیتوں کے عالمی دن پر گنیش مندر کی تزئین و آرائش مکمل کرکے ہندو برادری کے حوالے کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار نے مندر پر قومی پرچم لہرایا اور مندر میں پوجا پاٹ کے بعد مندر کو باقاعدہ طور پر بحال کردیا۔

انھوں نے کہا کہ  متاثرہ مندر کی تزئین و آرائش کروا کر ہندو برادری کو یہ احساس دلایا ہے کہ پاکستان میں اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا اور اسلام عزت اورامن سکھاتا ہے۔ حکومت اقلیت کے ساتھ تھی اور رہے گی۔ ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ چرچ، مسجد اورمندر میں ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیے۔ پنڈتوں اور علماء کو چاہیے کہ وہ عوام کو بھائی چارے کا فروغ دیں۔

انہوں  نے کہا کہ مندر پر حملے کے 95 لوگ پکڑے جاچکے ہیں اوراگر حملہ اور شرمسار ہیں تو معاف کرنے کو تیار ہیں۔

چھ اگست کو سپریم کورٹ نے رحیم یارخان میں مندرحملےکےملزمان فوری گرفتارکرنےکاحکم دیا تھا۔ عدالت نےحملےکیلئےاکسانےوالوں کےخلاف بھی کارروائی اور مندربحالی کےاخراجات ملزمان سےہرصورت وصول کرنےکاحکم دیا تھا۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

مندر میں کیا ہوا تھا ؟

رحیم یارخان میں بھونگ کےعلاقے میں شہرکے واحد مندر میں ہجوم کی جانب سے توڑ پھوڑ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اور یہ ویڈیو بدھ کو منظرعام پر آئی تھی۔ مندرمیں توڑپھوڑ کرنے والے افراد نےعمارت کے شیشے توڑ دئیےاور اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ واقعے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اورانتظامیہ نے پولیس اور رینجرزکی مدد طلب کرلی۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں۔

پولیس نے بتایا تھا کہ 10 روز قبل ایک مدرسے کے استاد نے شکایت درج کروائی تھی کہ کم عمر غیر مسلم لڑکا مدرسے میں داخل ہوگیا تھا اور بےحرمتی کی تھی۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے لڑکے کو حراست میں لے لیا تاہم کچھ روز بعد عدالت نے لڑکے کی ضمانت منظور کرلی اور اس کو رہا کردیا گیا۔

اس کی رہائی کے بعد شہریوں نے مظاہرہ کیا اور شہر بند کروادیا تھا جبکہ ایم 5 موٹروے بھی بند کردی گئی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی تاہم انھیں اس میں ناکامی ہوئی۔اس کے بعد مظاہرین نے مندر پر حملہ کردیا تھا۔

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ رحیم یار خان میں ہندوؤں کی عبادت گاہ پر حملہ نا صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ پاکستان کے آئین اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

RAHIM YAR KHAN

Mandir

Tabool ads will show in this div