افغانستان کی صورتحال، 4اہم طالبان رہنما کہاں ہیں؟

میڈیا کی توجہ دوسرے رہنماؤں پر کیوں

افغانستان کی موجودہ صورتحال تک پہنچانے کے اہم ذمہ دار اور افغان طالبان کے حقیقی فیصلے کرنے والے چار اہم کمانڈرز کہاں ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو کوئی نہیں پوچھ رہا۔

طالبان کے سپریم کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی اس وقت منظر عام سے غائب ہیں۔

افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ تین رہنماؤں اور چوتھی اہم شخصیت ملا برادر کے ہاتھ میں ہے۔ ملا ہیبت اللہ کو پوری تحریک کا روحانی لیڈر مانا جاتا ہے۔ ملا برادر سیاسی لیڈر، سراج الدین حقانی کو ڈپٹی لیڈر اور تحریک کا سربراہ سمجھا جاتا ہے اور ملا یعقوب مرحوم ملا عمر کے بیٹے ہونے کے ناطے فوج کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔

میڈیا کی توجہ کچھ دوسرے افغان رہنماؤں پر رہی ہے جن میں عبدالرشید دوستم، عطا محمد نور، صدر اشرف غنی اور ان کے نائب صدر امر اللہ صالح جو تاجکستان فرار ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب شمالی افغانستان سے تعلق رکھنے والے تاجک وہزارہ کمیونٹی کے رہنما خصوصی پرواز سے پاکستان پہنچے ہیں۔

کابل سے پاکستان پہنچنے والوں میں اسپیکر افغان قومی اسمبلی میررحمان رحمانی اور  سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے بیٹے صلاح الدین ربانی، تاجک رہنما اور سابق وزیرداخلہ یونس قانونی سمیت سابق افغان کمانڈر احمد شاہ مسعود کے دونوں بھائی احمد ضیا مسعود اور احمد ولی مسعود شامل ہیں۔

اسی طرح افغان رہنماؤں میں ہزارہ کمیونٹی کے دو اہم رہنما استاد محقق اور کریم خلیلی بھی کابل سے پاکستان پہنچے ہیں، ان کے علاوہ بلخ کے سابق گورنر سردار عطا نور کے بیٹے خالد نور بھی کابل سے پاکستان پہنچے ہیں۔

اسلام آباد ائیرپورٹ پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصراور نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے افغان سیاسی وفد کا استقبال کیا۔

محمد صادق کے مطابق افغان سیاسی قیادت کے دورےکے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے کابل کے گھیراؤ کے بعد افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر امراللہ صالح کے افغانستان چھوڑ کرچلے گئے ہیں۔

KABUL

ASHRAF GHANI

AFGHAN TALIBAN

Tabool ads will show in this div