افغان صدر اشرف غنی نے استعفیٰ دیدیا، ملک سے فرار

نگراں حکومت کےلیے سابق وزیرداخلہ حمد علی جلالی کا نام زیرغور

کابل میں طالبان کے داخل ہونے اور بعد ازاں عبوری حکومت کے قیام کی خبروں کے ساتھ ہی افغان صدر اشرف غنی نے بھی استعفیٰ دیدیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدارتی محل میں جاری مذاکرات کے بعد صدر اشرف غنی اہل خانہ اور ساتھیوں سمیت ملک چھوڑ کر تاجکستان چلے گئے جب کہ عبوری حکومت کے لیے سابق وزیر داخلہ احمد علی جلالی کے نام پر غور کیا جارہا ہے۔

افغانستان کی قومی مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ویڈیو پیغام میں صدر اشرف غنی کے ملک چھوڑ کر جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ ان سے حساب لے گا۔

 رائٹرز کی جانب سے صدارتی محل کے حکام سے صدر اشرف غنی کی موجودگی کے بارے میں پوچھے گئے کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی رسک کے باعث صدر اشرف غنی کے مقام کے بارے میں نہیں بتاسکتے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ صبح جنگجوؤں کو کابل کے باہر روک دیا تھا لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ کابل میں سرکاری دفاتر خالی ہوگئے ہیں اور پولیس اہلکار بھی بھاگ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہٹ جانے کے بعد چوروں اور ڈاکوؤں سے امن و امان کا خطرہ ہے لہٰذا جنگجوؤں کو حکم دیا کہ وہ کابل کے ان علاقوں میں داخل ہوں جہاں سے انتظامیہ ہٹ چکی ہے اور لوٹ مارکا خطرہ ہے۔

علی احمد جلالی کون ہے؟

افغانستان میں نئی عبوری حکومت کے قیام کیلئے سفارتی حلقوں سے علی احمد جلالی کا نام زیر گردش ہے، تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ عمر ہونے کے باعث ممکن ہے کہ یہ اہم عہدہ انہیں نہ دیا جا سکے۔ علی احمد جلالی کی عمر 80 سال سے زیادہ ہے۔

وہ سابق افغان مجاہد کمانڈر اور سابق وزیر داخلہ رہ چکے ہیں۔ مذاکرات میں عبد اللہ عبداللہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ASHRAF GHANI

AfghanTaliban

Tabool ads will show in this div