نیگلیریا کراچی میں ہی کیوں تباہ کاریاں پھیلارہا ہے؟

شہریوں کو بھی احتیاط کی ضرورت ہے

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/Naegleria-Zohaib-Death-Khi-Pkg-13-08-Ayaz.mp4"][/video]

کراچی میں اس برس بھی دماغ پر حملہ کرنے والا امیبا نیگلیریا لوگوں کو موت کی نیند سلا رہا ہے اور شہر میں اس کے باعث اب تک پانچ افراد انتقال کرچکے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نیگلیریا عام طور پر گرم میٹھے پانی (جھیلوں ، دریاؤں) اور مٹی میں پایا جاتا ہے یا پھر گھروں میں موجود وہ واٹر اسٹوریج ٹینک جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی وہاں جنم لیتا ہے جب کہ کلورین کی مطلوبہ مقدار اس جان لیوا امیبا کو ختم کرتی ہے۔ رواں سال آ ٹھ سالہ بچے زوہیب اورنیوروسرجن ڈاکٹر ماجد سمیت پانچ افراد کی نگلیریا نے جان لے لی۔ یہ صرف کراچی میں ہی اپنی تباہ کاریاں پھیلا رہا ہے جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ شہیر کو ملنے والے 70 فیصد پانی میں کلورین نہ ہونےکےبرابر ہے۔ عالمی معیارکےمطابق شہریوں کو فراہم کیے جانے والے پانی میں صفر اعشاریہ پانچ پی پی ایم یعنی پارٹ پر ملین کلورین کا ہونا لازمی ہے۔ کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ نے ورلڈ بینک کے زیر انتظام چلنے والے پروجیکٹ کراچی واٹر سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ کوایک رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے 123 پمپنگ اسٹیشنزسے سیمپلنگ کی گئی جن میں سے 87 کے پانی میں کلورین شامل ہی نہیں تھی۔ یہ نمونے شہر کے مختلف ہائیڈرنٹس، ڈملوٹی کے 2 فعال کنوؤں، کڈنی ہل اور یونیورسٹی روڈ کے ذخائر اوردیگر پمپنگ اسٹیشنوں سے جمع کیے گئے تھے۔ حکومتی توجہ اپنی جگہ مگر شہریوں کو بھی چاہیے کہ واٹراسٹوریج ٹینکس کونہ صاف رکھیں بلکہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار بھی شامل کرتے رہیں۔

naegleria virus

Tabool ads will show in this div