شوگرسیکٹر گٹھ جوڑ: 55ملوں اورایسوسی ایشن پر 44ارب روپے جرمانہ

اکیاسی شوگر ملیں کارٹلائزیشن میں ملوث پائی گئیں، مسابقتی کمیشن
Aug 13, 2021
[caption id="attachment_2233034" align="alignnone" width="800"]Sugar sacks فوٹو: آن لائن[/caption]

مسابقی کمیشن پاکستان نے شوگر ملز اور ایسوسی ایشن کے گٹھ جوڑ سے متعلق کیس کا فیصلہ سنادیا، 55 شوگر ملوں اور ایسوسی ایشن پر 44 ارب روپے (تقریباً 265 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا گیا، مجموعی جرمانہ 55 سے 60 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

شوگر ملز مالکان اور ایسوسی ایشن کے درمیان گٹھ جوڑ کا انکشاف تقریباً ایک سال قبل ہوا تھا، جس کے بعد مسابقتی کمیشن پاکستان نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے 4 رکنی بینچ نے انکوائری کے بعد شوگر سیکٹر گٹھ جوڑ سے متعلق کیس کا فیصلہ سنادیا، جس میں 81 شوگر ملوں کو کارٹلائزیشن میں ملوث قرار دیا دیا گیا ہے جبکہ 55 شوگر ملوں اور ایسوسی ایشن پر 44 ارب روپے (تقریباً 265 ملین ڈالر) جرمانہ عائد کردیا گیا۔

مسابقتی کمیشن پاکستان کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملز مالکان اور ایسوسی ایشن نے چینی کی پیداوار، اسٹاک، برآمد اور مقامی سپلائی کو بھی مینج کیا گیا جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز کے ٹینڈرز میں بھی ملی بھگت کی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چار شوگر ملوں کو فی کس ساڑھے 7 کروڑ روپے، 22 ملوں کو 5، 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا جو 44 ارب روپے بنتا ہے۔

مسابقتی کمیشن کے فیصلے کے مطابق 26 شوگر ملز پر ان کے ٹرن اوور کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے، ان شوگر ملوں پر جرمانے کی رقم کا تعین ٹرن اوور طے ہونے کے بعد ہوگا، جس سے مجموعی طور پر جرمانے کی رقم 55 سے 60 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی سیکٹر کو کیا جانیوالا یہ سب سے بڑا جرمانہ ہوگا۔

مسابقتی کمیشن کے مطابق سندھ، پنجاب اور کے پی میں شوگر ملز کے مالکان نے چینی کی قیمت کے تعین اور نرخ بڑھانے میں گٹھ جوڑ کیا تھا، جس سے حکومت کے ساتھ ساتھ صارفین کو بھی بھاری نقصان پہنچایا گیا تھا۔

اسلام آباد میں 8 جون کو وزیراعظم عمران خان نے کسانوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا کے خلاف ہم نے بلاامتیاز تحقیقات کیں۔ بد قسمتی سے اور جگہوں پر بھی شوگر مافیا جیسے لوگ بیٹھے ہیں۔

SUGAR CRISIS