سندھ میں کرونا ویکسین کی کوئی قلت نہیں ہے،وزیرصحت ڈاکٹرعذرا

ویکسینیشن کروانے کے بعد اگر کرونا کا انفیکشن ہوجائےتو وہ معمولی نوعیت کا ہوتا ہے

 سندھ کی وزیرصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا ہے کہ کراچی کے اسپتالوں میں95فیصد بستر بھرے ہونےکی بات درست نہیں ہے،صرف بڑے کووڈ مراکزمیں95فیصدبستر بھرے ہیں اور باقی میں خالی ہیں۔

جمعہ کو وزيرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نےکراچی کے نيشنل اسٹيڈيم ميں ويکسينيشن سينٹرکاافتتاح کرديا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علاقے کے لوگ یہاں آکرویکسینیشن کروائيں کیوں کہ کرونا کےمريضوں ميں سے90 فيصد نےويکسينيشن نہيں کروائی۔وزیرصحت نے بتایا کہ ویکسینیشن کروانے کے بعد اگر کرونا کا انفیکشن ہوجائےتو وہ معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اورویکسینیشن نہیں کروانے پر یہ وبا جان لیوا ہوسکتی ہے۔

عذرا پیچوہو نے بتایا کہ اسپٹنک ویکسین کی ری فیلنگ کےلئےقوائدوضوابط کاخیال رکھاگیا۔ سندھ ميں ويکسين کی قلت نہيں ہے اور فائزرویکسین بھی آنے والی ہے جبکہ موڈرنا ویکسین باہر جانے والوں کے علاوہ بھی لگائی جارہی ہے اور80 سال سے زائد عمرکےلوگوں کوبھی موڈرنا لگائی جارہی ہے۔

وزيرصحت نے واضح کیا کہ پڑھائی کيلئےباہرجانےوالوں کوفائزرويکسين لگارہےہيں۔ اگست کے آخر تک40فیصد آبادی کی ویکسینیشن کا ہدف تھا اوراس وقت 38فیصد ویکسینیشن کرچکے ہیں اور مہینےکےآخرتک50فیصد کرلیں گے۔

عذرا پيچوہو نےتردید کی کہ اسپتالوں ميں جگہ کم پڑجانے کا تاثر درست نہيں اورسندھ میں90 لاکھ سے زائد ویکسین لگائی جاچکی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑی تو سندھ حکومت وينٹی ليٹر فراہم کرے گی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی کی کچی آبادیوں میں بھی موبائل ویکسینیشن سہولت شروع کی جائے گی ۔ ویکسین کے لیے شناختی کارڈ نہ ہونے کی صورت میں اسپیشل رجسٹریشن سسٹم متعارف کروا دیا گیا ہے اوراسپیشل رجسٹریشن والوں کو سنگل ڈوز کینسینو ویکسین لگائی جائے گی۔ شناختی کارڈ نہ ہونے کی صورت میں خاندان کے کسی اور فرد کے شناختی کارڈ پر بھی ویکسین کی جا رہی ہے۔

VACCINE CENTERS

VACCINE UPDATES

Tabool ads will show in this div