منظورشدہ چینی ویکسینزکئی ممالک کوقبول کیوں نہیں؟

ڈبلیوایچ او کی واضح پالیسی یورپ،خلیج میں نظرانداز
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/World-Vaccine-Policy-Virtual-Mudassir-12-08-REms.mp4"][/video]

عالمی ادارہ صحت کی واضح پاليسی کے باوجود يورپی ممالک اور خليجی رياستوں میں چين کی کرونا ويکسين کو منظور نہيں کیا جا رہا۔ ڈبيلو ايچ او نے بیرون ملک جانے والوں کی مشکل آسان کرتے ہوئے یہ بات واضح کر دی تھی کہ اس کی منظور شدہ تمام ویکسین تمام ممالک میں قابل قبول ہوں گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ عالمی ادارہ صحت خود مختار ادارہ ہے جو عالمی مدد سے چلتا ہے مگر ویکسی نیشن کے معاملے میں اس کی بات نہیں مانی جا رہی جو ایک افسوسناک امر ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ایسٹرازینکا ویکسین کو مانا جا رہا ہے۔ فائزر دوسرے نمبر پر اور اسپوٹنک کا تیسرا نمبر آرہا ہے جبکہ سائنو فارم اور موڈرنا کا چوتھا نمبر ہے۔ یہاں یہ بات حیران کن ہے کہ سب سے کم مقبول سائنو ویک ویکسین امریکی ادارہ برائے وبائی امراض کے ریسرچ آرٹیکل کے مطابق سائنو ویک ویکسین ہی سب سے زیادہ مؤثر ویکسین ہے۔ تمام ممالک کے خارجہ حکام چین کی ویکسین کو مانتے ہیں مگر ویکسین بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ تمام پالیسیوں کو دائیں سے بائیں کر دیں مغربی ممالک اور چین کے مابین یہ سرد جنگ ہی لگتی ہے کہ جو ڈبیلو ایچ او کے فیصلے کو خاطر میں نہیں لا رہے۔

COVID

CORONA VACCINE

COVID New

Tabool ads will show in this div