لاہور: گرین بسوں کو کوڑیوں کے مول فروخت کردیا گیا

بسوں کی معیاد 8 سال بعد ختم ہو گئی تھی

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/GREEN-BUSES-STORY-LHR-PKG-10-08.mp4"][/video]

لاہور میں گرین بسوں کو کوڑیوں کے مول فروخت کیا جارہا ہے۔

لاہور میں 400 نئی بسیں 2011 میں لائی گئی تھیں۔ ایک بس  تقریبا سوا کروڑ روپے میں خریدی گئی اور اس کا 20 فیصد حکومت نے ادا کیا تھا۔لاہور اور اس کے مضافات کے 20 روٹس پر روزانہ سوا لاکھ مسافروں کو صرف 40 روپےمیں سفری سہولیات ملتی تھیں۔تاہم صرف 7 سال بعد یہ بسیں کاہنہ اور مصری شاہ میں مشینوں سے کٹ کر لوہے کے بھاؤ میں فروخت ہونے لگیں۔

آپریٹرز نےموقف دیا ہے کہ حکومت سے 3 ماہ کا وقت مانگا تھا تاکہ ان کو ٹھیک کرکے دوبارہ سڑکوں پر لایا جاسکےاور اس کے لیے سبسڈی لینے سے بھی انکار کردیا تھا تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ وزیرٹرانسپورٹ نے بتایا ہے کہ ان بسوں کی معیاد 8 سال بعد ختم ہوگئی تھی اور یہ پروجیکٹ نون لیگ کی حکومت کا تھا۔

Green Bus

Tabool ads will show in this div