اب زیر زمین پانی پر بھی ٹیکس لگے گا

منظوری دے دی گئی
Aug 10, 2021
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2352379" align="alignright" width="900"] فائل فوٹو[/caption]

 سندھ حکومت نے عوام سے زیر زمین پانی نکالنے پر ٹیکس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت بروز منگل 10 اگست کو ہونے والے سندھ کابینہ کے اجلاس میں زیر زمین پانی نکالنے پر ٹیکس لینے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ زیر زمین پانی نکالنے پر ایک روپیہ فی لیٹر ٹیکس لیا جائے گا۔

اجلاس میں کے ایم سی سے 29 ایکڑ سلاٹر ہاؤس کی زمین بھی واپس لے لی گئی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بھینس کالونی والے سلاٹر ہاؤس کی زمین پر بی آر ٹی ریڈ لائن کے لیے بائیو گیس پلانٹ لگایا جائے گا، جب کہ صوبائی حکومت کے ایم سی کو کسی اور مقام پر اراضی دی جائے گی۔

کابینہ نے مرحوم ملازمین کے کوٹے پر ملازمتیں فراہم کرنے کی منظوری بھی دی۔ انتقال کرنے والے ملازم کا بچہ کم عمر ہے تو اُن کو 2 سال کے اندر متعلقہ ادارے کو آگاہ کرنا ہوگا۔ غیر شادی شدہ ملازمین کی بہن یا بھائی کوٹہ کے مستحق ہوں گے۔

اسی دوران وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ ایک تفصیلی اسکیم تیار کرے جوکہ متوفی کے لواحقین کے لیے یکمشت یا ماہانہ پیکیج متوفی کے ریٹائرمنٹ کی مدت تک جاری رہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے امتیاز شیخ کی سربراہی میں ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی جوکہ اپنی تجویز پیش کرے گی۔

صوبائی کابینہ نے کراچی واٹر بورڈ کی درخواست پر حکومت پنجاب کی طرح بوتل کے پانی اور مشروبات کی کمپنیوں سے فی لیٹر 1 روپے لیوی کی منظوری دی۔

بلدیاتی ملازمین کے حوالے سے کابینہ نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کی درخواست پر مقامی حکومت کی سطح پر فنڈ قائم کرنے کی تجویز منظور کی تاکہ وہاں تعیناتی کے منتظر ایس سی یو جی ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کو ایک مناسب نظام تیار کرنا چاہیے تاکہ مزید پوسٹنگ کے لیے لوکل گورنمنٹ بورڈ کو رپورٹ کرنے والے ملازمین اپنی تنخواہیں لے سکیں۔

آج ہونے والے اجلاس میں صوبائی کابینہ نے سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے ضوابط کی بھی منظوری دی۔ اتھارٹی معیاری پروٹوکول اور مجوزہ طریقہ کار کو برقرار رکھتے ہوئے اور محفوظ بلڈ ٹرانسفیوژن کے تمام پہلوئوں کی نگرانی کرتے ہوئے بلڈ بینکوں، بلڈ سینٹرز اور دیگر بلڈ اداروں کو لائسنس کا رجسٹر رکھتی ہے۔ قوانین کے معیارات اور وضاحتوں کے ذریعے اتھارٹی ایک معیاری نظام تشکیل دیتی ہے اور خون کی جانچ، ذخیرہ اور تقسیم میں کسی بھی سنگین منفی واقعات کے تدارک کو یقینی بناتی ہے۔ اتھارٹی نے ایکٹ کے نفاذ کے حوالے سے معلومات کے تبادلے کے لیے باقاعدہ اجلاس کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا۔

کابینہ نے وضاحت کے لیے ایس آر بی قوانین کے کچھ حصوں میں ترمیم بھی کی۔ ایس آر بی نے ایک آئٹم پیش کیا جس کے تحت 5 فیصد ایس ایس ٹی اسکول فیس اور نجی صحت کے اداروں پر عائد کرنے کی تجویز دی تھی جسے کابینہ نے مسترد کر دیا۔

Tabool ads will show in this div