دریائے سواں، جسے جدید تہذیب گندا نالہ بنا بیٹھی

یہ عظیم الشان دریا قدیم تہذیوں کا مسکن رہا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/08/Soan-River-Qadir-Tanoli.mp4"][/video]

چند دہائیوں قبل دریائے سواں ایک جیتا جاگتا دریا تھا اور اس کا پاٹ بھی ایک شاندار آبی سوتے کے لیے موزوں ترین تھا لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی کارگزاریوں نے اسے بری طرح متاثر کرتے ہوئے ایک سیوریج نالے کا روپ دے دیا ہے جس میں اب ایک دریا کی دیگر خصوصیات کے ساتھ مچھلیوں کی موجودگی کا بھی کوئی تصور نہیں جبکہ پہلے یہاں ان کی بہتات تھی۔

دریائے سواں محض ایک عام دریا نہیں بلکہ یہ موئن جو دڑو سے بھی قدیم ایک مضبوط تہذیب و ثقافت کا بھی مسکن رہا ہے۔ گو یہ دریا اب بھی اسلام آباد کے ایک ڈیم کو پانی فراہم کرتا ہے لیکن جب یہ راول پنڈی نو تعمیر شدہ تعمیرات کے پاس سے گزرتا ہے تو ایک بڑے گندے نالے کا روپ دھار لیتا ہے۔ پھر یہاں سے وہ پیر پیاہی کے مقام پر دریائے سندھ میں جاگرتا ہے۔ یہ مقام متنازعہ منصوبے کالا باغ ڈیم کی مجوزہ سائٹ ہے۔

دریائے سواں تقریباً 250 کلومیٹر طویل ایک نسبتاً چھوٹا دریا ہے۔ اسلام آباد ہائی وے اس دریا کو سہالہ کے نزدیک عبور کرتا ہے جہاں اس مقصد کے لیے کاک پل تعمیر کیا گیا ہے۔ اس سے کورنگ ندی، لنگ اسٹریم اور نالہ لئی مختلف مقامات پر ملتے ہیں۔

سروے آف پاکستان، راول پنڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد قاسم نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریکارڈ کے مطابق دریائے سواں کی چوڑائی ملک کی ایک معروف ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس 280 میٹر ہے جو فوجی فاؤنڈیشن اسپتال کے پاس سکڑ کر 50 میٹر سے بھی کم رہ جاتی ہے۔

شومئی قسمت سے سروے آف پاکستان کے راول پنڈی دفتر کے پاس ضلع راول پنڈی کے پرانے نقشے موجود نہیں کہ جن کی مدد سے ہم نقشوں میں ہوئی جغرافیائی سنگ میلوں کی تبدیلیوں کا اندازہ کرسکیں۔

محمد قاسم کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کے ریکارڈ میں نقشوں کی صرف چند ایک کاپیاں موجود ہیں وہ بھی مری دفتر میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ہاں ضلعی سطح پردستاویزات کو محفوظ بنانے کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ ان کامزید کہنا تھا کہ مری دفتر تک ایک عام آدمی کی رسائی ایک مشکل کام ہے جس کے لیے خاصی کاغذی کارروائیاں درکار ہوتی ہیں۔

لوگ سروے آف پاکستان کے دفتر سے صرف تازہ ترین یا پھر رہنمائی کرنے والے نقشے ہی حاصل کر سکتے ہیں جبکہ پرانے نقشے ضائع کردیے جاتے ہیں اور ان کی ایک دو کاپیاں ہی مری دفتر میں رکھی جاتی ہیں۔

دریائے سواں میں آلودگی کی سطح کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کا اندازہ  اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب شکاری اس میں مچھلی کے شکار کا سوچتے بھی نہیں جبکہ کچھ دہائیوں قبل صورتحال بالکل مختلف تھی کیوں کہ اس وقت یہ بام سمیت دیگر نایاب اقسام کی مچھلیوں کی افزائش کے لیے مشہور تھا۔

راول پنڈی کے ایک رہائشی چودھری محمد امجد جو اس وقت 60 کے پیٹھے میں ہیں بتاتے ہیں کہ تیس پینتیس سال قبل وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ دریائے سواں پر جی ٹی روڈ کے ساتھ واقع ایک پل پر مچھلیاں پکڑنے آتے تھے اب اس جگہ بسوں اور وین کا اڈہ قائم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت دریا کا پانی انتہائی شفاف ہوا کرتا تھا اور لوگ وہاں فشنگ راڈز اور جال لے کر شکار کے لیے آیا کرتے تھے۔

چودھری محمد امجد نے کہا کہ اب صورتحال بالکل تبدیل ہوچکی ہے اور دریا اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ مچھلی اس پانی میں رہ ہی نہیں سکتی۔ انہوں نےمزید کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں یہاں اپنا سیوریج ڈالتی ہیں جس سے پانی انتہائی آلودہ ہوچکا ہے۔

سوانی تہذیب کے ماہر سجاد اظہر کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ سوانی ثقافت پتھر کے دور کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ مقامات پر تو دریائے سواں کا پاٹ میلوں چوڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ اس دریا کی آبی گزرگاہ روات سے کورال چوک تھی پھیلی ہوئی تھی اور یہ اپنے وقت کا ایک عظیم الشان دریا تھا۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ بہت پہلے دریائے جہلم بھی اسی دریا میں گرتا تھا تاہم بعد میں اس کا رخ تبدیل ہوگیا۔

سجاد اظہر کا کہنا ہے کہ اگر اس کے کنکر پتھر اگر غور سے دیکھے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ مختلف رنگوں کے ہیں جیسے کہ نیلے، ہرے اور سرخ جو مری کی پہاڑیوں کی مٹی کے برعکس ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ دریا ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں سے بہتا تھا۔

انہوں نے کہ پھر وقت کے ساتھ اس دریا کی شان گھٹتی گئی اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے اسے ایسا روپ دے دیا جو اس کے اصل شکل اور حجم سے بیحد مختلف ہے۔

سجاد اظہر کا کہنا تھا کہ در یا کے علاقے میں رہائشی سوسائیٹوں نے اس کی چوڑائی کو بڑی حد تک کم کردیا ہے اور یہی وجہ تھی جو اسی دریا کے نام سے موسوم ایک سوسائٹی گزشتہ برس کی مون سون بارشوں کے دوران بری طرح زیر آب آگئی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دریا ہمیشہ اپنی زمین واپس لے لیا کرتے ہیں۔

River Swan

Tabool ads will show in this div