لاہور سے بچیوں کےاغواء کاواقعہ: ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور

دو خواتین ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
فوٹو: رپورٹر ارشد علی
فوٹو: رپورٹر ارشد علی
[caption id="attachment_2347884" align="alignnone" width="800"]Lahore girls kidnapping فوٹو: رپورٹر ارشد علی[/caption]

لاہور کی ضلع کچہری نے بچیوں کو اغواء کرنے والے پانچ ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا جبکہ شریک دو خواتین ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

جمعرات 5اگست کو جوڈیشل مجسٹریٹ نعمان ناصر نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی جہاں پولیس نے ملزمان کے 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

دو بہنوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے لیے دو افراد کو حراست میں لیا تھا جس میں سے ایک شخص کو بعد میں گرفتار کیے گئے 6 افراد کے ساتھ آج عدالت میں پیش کیا گیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ بچیوں کا بیان کل ملزمان کی موجودگی میں کریں گے جس کے لیے عدالت نے گرفتار ملزمان کو کل پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے چاروں بچیوں کا میڈیکل کروانے کا بھی حکم دیا۔

ملزمان کی تفتیشی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی جس میں ملزمان نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق پانچ مرد ملزمان میں رکشہ ڈرائیور قاسم، کاشف، شہزاد، نعیم شہزاد اور محمد آصف شامل ہیں۔ کاشف لڑکیوں کو لاہور سے اغوا کرکے شہزاد تک پہنچاتا ہے۔

ملزم شہزاد اپنی بیوی کے ساتھ مل کر جسم فروشی کا کام کرواتا ہے۔ شہزاد کا ایک گھر لاہور جبکہ تین گھر ساہیوال میں ہیں۔ ملزم نعیم شہزاد ڈانس کا طریقہ سکھاتا ہے اور بڑی بڑی ڈانس پارٹیوں کو بھیجتا ہے۔

لاہور سے لاپتہ چاروں بچیاں ساہیوال سے بازیاب، 6افراد زیرحراست

ملزم آصف کی بیوی بیوٹی پارلر کا کام کرتی ہے جو بیوٹی پارلر کے ذریعے لڑکیوں سے جسم فروشی کرواتی ہے۔ شہزاد پر ساہیوال میں بھی جسم فروشی کروانے کا مقدمہ درج ہے۔

احاطہ عدالت میں بازیاب ہونے والی لڑکیوں کی لواحقین سے ملاقات ہوئی جہاں بچیاں والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھ کر روتی رہیں۔

اس سے قبل بچیوں کی جانب سے پولیس کو دیا گیا بیان سامنے آیا تھا جس میں بتایا گیا کہ رکشہ ڈرائیور قاسم نے ہمیں بوتلوں میں نشہ آور چیز ملا کر پلائی۔ قاسم سے جوہر ٹاؤن میں ایک خاتون کے گھر چھوڑنے کا کہا تھا لیکن قاسم ہمیں جوہر ٹاؤن لے جانے کی بجائے اپنے گھر گرین ٹاؤن لے گیا۔

بیان کے مطابق قاسم ہمیں دوسرے دن اپنے گھر سے شہزاد کے گھر لے گیا جس کے بعد ہمیں رکشہ اور ایک گاڑی پر ساہیوال لے جایا گیا۔ ملزم شہزاد آن لائن ٹیکسی چلاتا ہے جس کے گھر ميں پہلے سے گڑیا نامی لڑکی موجود تھی، تين لڑکيوں کو شہزاد اپنے ايک دوست آصف کے گھر چھوڑ کر آيا۔

اغواء کا واقعہ

واضح رہے کہ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق 30جولائی کو رات ساڑھے 8بجے ہنجروال کے علاقے سے 4 بچیاں گھر سے نکلی تھی جس کے بعد لاپتہ ہوگئیں۔ پولیس نے ایک بچی کے موبائل کو ٹریس کیا جس پر معلوم ہوا کہ بچیاں ساہیوال میں موجود ہیں۔

لاہور پولیس نے ساہیوال پولس سے رابطہ کیا جس پر مقامی پولیس بچیوں کی جگہ پر پہنچی جہاں رکشہ ڈرائیور قاسم نے خود کو بچیوں کا رشتے دار بتایا تاہم ساہیوال پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے رکشہ ڈرائیور کو گرفتار کرکے بچیوں کو بازیاب کرا لیا۔

ساہیوال پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے رکشہ ڈرائیور کی نشاندہی پر مزید پانچ افراد کو حراست میں لے لیا جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

girls kidnapping

Tabool ads will show in this div