کےالیکٹرک کیخلاف 11کروڑ 60لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ

ملیر میں کرنٹ لگنے سے بچےکا بازو ضائع ہوگیا تھا
[caption id="attachment_2066656" align="alignnone" width="800"]Sindh-High-Court-1 فوٹو: سماء ڈیجیٹل[/caption]

سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف شہری کی جانب سے 11کروڑ 60 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ عثمان فاروق نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے کھلے تار گھر کے ساتھ گزر رہے ہیں اور احمد عبداللہ کو کے الیکٹرک کی غفلت سے کرنٹ لگا تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک کو 11کروڑ 60لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

سماء سے گفتگو میں بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ 27مئی کی شام بیٹا گھر کی تیسری منزل پر کھیل رہا تھا کہ گھر کے ساتھ گزرنے والی ہائی ٹینشن کی تار تیز ہوا کے باعث کھڑکی پر گری اور بچے کو کرنٹ لگ گیا۔

والدہ کا مطالبہ ہے کہ بچے کو مصنوعی بازو لگوانا ہے جس کے علاج کے لیے بیرون ملک جانا ہوگا لہٰذا کے الیکٹرک اور حکومت انتظامات کرے۔

واضح رہے کہ ملیر میں کرنٹ لگنے سے 10سالہ بچے احمد عبداللہ کا بازو ضائع ہوگیا تھا۔

K ELECTRIC

Tabool ads will show in this div