نورمقدم قتل کیس:عدالت کاملزمان کی درخواست ضمانت پرفیصلہ محفوظ

کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا
فوٹو: ٹوئٹر

سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل میں ملوث ملزم کے والدین کی جانب سے درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ میں ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج محمد سہیل نے کی۔

ملزمان کے وکیل نے عدالت میں درخواست ضمانت پردلائل دیتے ہوئے مختلف کیسز اور فیصلوں کاحوالہ دیا۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ضمانت کے مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت میں قتل کیس سے متعلق کچھ نئے حقائق ریکارڈ پر رکھے گئے۔

عدالتی کارروائی میں ڈھائی گھنٹے کا وقت لگا جس میں مرحومہ نور مقدم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ مرکزی ملزم کی والدہ عصمت آدم اور ذاکر جعفر قتل کیس میں ملزم کے والدین ہیں۔

ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواست پر عدالت میں دلائل دیتے ہوئے، ذاکر جعفر کے دفاعی وکیل رضوان عباسی نے بتایا کہ 20 جولائی کو نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے رات ساڑھے 11 بجے قتل کا مقدمہ درج کروایا۔

ملزم کے وکیل نے عدالت میں ایف آئی آر کا مواد پڑھا اور کہا کہ ایف آئی آر میں مزید تین حصے بعد میں شامل کیے گئے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ابتدائی طور پر اس کیس میں ذاکر جعفر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

اس موقع پر نور مقدم کے وکیل نے موقف اپنایا کہ پہلے دن کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کے والدین نے بیان دیا تھا کہ وہ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی طرح وہ اپنے بیٹے کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ضمنی درخواست 24 جولائی کو تفتیش اور پولیس کے سامنے کیس کے اہم ملزم کے بیان کی بنیاد پر درج کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس تفتیش کے مطابق ظاہر جعفر نے اعتراف کیا کہ نور اس کے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے اس نے اس کا گلا کاٹ کر اسے قتل کر دیا۔

نور مقدم کے وکیل نے کہا ظاہر جعفر نے پولیس کو بتایا کہ اس کے والد نے اس واقعے کے بعد اسے بتایا کہ وہ اس سے نکلنے کا راستہ نکالے گا اور لاش سے چھٹکارا پائیں گے۔ وکیل کے مطابق پولیس کے سامنے ملزم کا بیان ثبوت کے طور پر عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ نور مقدم قتل کیس میں ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کل سنائے گی۔

ملزم ظاہر جعفر کے والدین اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ایف سیون میں سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کو عید الاضحیٰ سے ایک دن قبل انتہائی سفاک طریقے سے قتل کردیا گیا تھا، پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ اس کے والدین کو بھی حراست میں ہیں۔

واضح رہے کہ ملزم کے والدین اور ملازمین کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار پولیس اسٹیشن میں درج ہے۔

islamabad police

Noor Muqaddam Murder Case

Tabool ads will show in this div