چینی کی قیمت مقرر کرنےکے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

درخواستگزار کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا
Aug 03, 2021
[caption id="attachment_2104021" align="alignnone" width="800"]LHC فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ[/caption]

لاہور ہائیکورٹ نے شوگر ملز کی جانب سے چینی کی قیمت مقرر کرنے کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

منگل 3اگست کو جسٹس شمس محمود مرزا نے درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ شوگر ملز مالکان کے خلاف تادیبی کارروائی نا کرنے سے متعلق بھی فیصلہ محفوظ کیا گیا۔

وکیل وفاقی حکومت اسد باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ ان سب کو نوٹس کیے گیے ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکلاء نے بتایا کہ یہ ہمارا اسٹاک اٹھا کر لے جائیں گے جس سے چینی کی فراہمی متاثر ہوگی، ہم کہتے ہیں کہ کوئی آڈیِٹر مختص کیا جائے جو سارے معاملے پر آڈٹ کرے۔

وکیل نے کہا کہ یہ دراصل لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج صاحب کے حکم کی خلاف ورزی ہے کیونکہ جسٹس شاہد جمیل خان نے تمام مالکان کو سن کر متفق ریٹ مختص کرنے کا حکم دیا تھا لیکن عدالتی حکم کے باجود ہمیں سنا ہی نہیں گیا۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا کہ حکومت کی جانب سے چینی کی نئی قمیت 89.50 روپے مقرر کی لیکن اس قیمت پر چینی فروخت کرنا ممکن نہیں۔ عدالت نے اپنے سابقہ تحریری حکم میں تمام فریقین کو سننے کا حکم دیا۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ چینی کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

sugar price

Tabool ads will show in this div