کراچی: برف کے کارخانوں نے ہڑتال کا اعلان کردیا

جون، جولائی میں ماہی گیری پر پابندی ہوتی ہے
Aug 02, 2021

سندھ میں اگست میں  ماہی گیری پر پابندی ختم کردی جاتی ہے تاہم سیزن کے آغاز پر ہی برف خانوں کی ہڑتال نے ماہی گیروں کے لیے مشکلات کھڑی کردیں جبکہ برف کی عدم دستیابی سے دیگر شہری بھی متاثر ہونگے۔

قیمتوں پراتفاق رائے نہ ہونے کے باعث برف کارخانوں کے مالکان نے برف سپلائی بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ  بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور 20 فیصد جی ایس ٹی نفاذ کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ناگریز ہوچکا ہے۔ تاہم آئس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ برف کی قیمت پہلے ہی ایک سال میں 120 روپے سے زائد برھائی جا چکی ہے لہٰذا اس میں مزید کسی اضافے کا بوجھ نہیں اٹھایا جاسکتا۔

کراچی فشریز ہاربر میں آئس فیکٹری مالکان اور ڈیلرز کا ایک اجلاس ہوا جس میں آئس فیکٹری آنرز ایسوسی ایشن کے صدر مسعود آغااور آئس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نثار محمد سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی لیکن اجلاس میں قیمتوں پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا جس کے بعد کارخانوں کے مالکان نے فوری طور پر غیر معینہ مدت کے لیے برف کی سپلائی بند کرنے کا اعلان کردیا۔

برف سپلائی معطل ہونے کا سب سے بڑا نقصان فشریز شعبے کو ہوگا جہاں آئس فیکٹری مالکان کے مطابق مجموعی برف کا 70 فیصد استعمال ہوتا ہے۔ جون وجولائی کے دوران ہر سال لگائی جانے والی دو ماہ کی پابندی ختم ہو نے کے بعد یکم اگست سے نیا فشنگ سیزن شروع ہوگیا لیکن سیزن کا آغاز ہوتے ہی برف فیکٹری مالکان کی ہڑتال سے ماہی گیر پریشانی سے دوچار ہوگئے ہیں جب کہ برف کی سپلائی معطل ہونے سے عام شہری بھی متاثر ہونگے۔

آئس فیکٹری اونرز ایسوسی ایشن کے صدر مسعود آغا نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ برف کے کارخانوں سے بجلی بلوں میں پہلے ہی 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اب وفاقی بجٹ میں برف کی فروخت پر 17 فیصد جی ایس ٹی نافذ کردیا ہے اور ساتھ ہی برف ڈیلرز سے شناختی کارڈ لینے اور پورا ٹرانزیکشن اس کے اپنے اکاؤنٹ سے کرنے کی شرط لگا دی ہے اور شناختی کارڈ نہ دینے والوں سے20 فیصد جی ایس ٹی لینے کا کہا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخ بھی بڑھ چکے ہیں جس کی وجہ سے برف کی قیمت میں اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے لیکن ڈیلرز قیمتوں میں اضافے پر آمادہ نہیں اور وہ شناختی کارڈ کے حوالے سے بھی تعاون نہیں کررہے جس کی وجہ سے سپلائی بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

آئس فیکٹری اونرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اطلاعات دانش ملک کے مطابق برف کا ایک بلاک 320روپے میں فروخت کیا جارہا تھا بجلی کی قیمت میں اضافے کے تناسب سے قیمت 360 روپے بنتی ہے جب کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کا بوجھ مزید 80 روپے بنتا ہے جس کے حساب سے ایک بلاک کی قیمت 430 روپے ہونی چاہیے۔

آئس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر نثار محمد کا کہنا ہے کہ آئس فیکٹری مالکان کو پیر کوہونے والے اجلاس میں آگاہ کردیا گیا ہے کہ برف کی قیمتوں میں پہلے ہی بہت اضافہ کیا جاچکا ہے اور لانچ مالکان اور ماہی گیر مزید اضافے کی سکت نہیں رکھتے۔

نثار محمد کے مطابق شہر میں برف کا سب سے زیادہ استعمال فشریز شعبے میں ہے برف کا استعمال لانچوں کے فش ہولز میں لازمی ہے جس کی مدد سے شکار کردہ مچھلی وجھینگے خراب نہیں ہوتے اس کے علاوہ آکشن ہالز اور مارکیٹ میں بھی ہرمرحلے پر برف استعمال ہوتا ہے۔

برف فیکٹری مالک عامر صالح میمن کے مطابق شہر میں آئس کارخانوں کی تعداد 300 کے قریب ہے جن میں تیار ہونے والی 70 فیصد برف فشریز شعبے میں استعمال ہوتی ہے جب کہ بقیہ 30 دیگر شہری اور مشروبات بیچنے والے خریدتے ہیں۔

KARACHI FISHERIES

Tabool ads will show in this div