آباد کا تعمیراتی صنعت کیلئے ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کامطالبہ

سرمایہ کاری بڑھ کر 2ہزارارب تک پہنچ سکتی ہے،فیاض الیاس

ISB construction work

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) نے تعمیراتی صنعت کیلئے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کا مطالبہ کردیا۔ چیئرمین فیاض الیاس کا کہنا ہے کہ اگر ریلیف پیکیج میں 6 ماہ کی توسیع کی جائے تو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 2 ہزار ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

چیئرمین آباد فیاض الیاس نے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کے اس بیان پر کہ ایمنسٹی اسکیم کے بعد تعمیراتی شعبے میں ایک ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے، پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی سیکڑوں پروجیکٹس اسکیم کے تحت رجسٹر ہونے سے رہ گئے ہیں، اگر اسکیم کی مدت کو مزید 6 ماہ تک بڑھایا جائے تو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 2 ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔

چیئرمین آباد نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 500 سے زائد تعمیراتی منصوبے رجسٹر ہونے سے رہ گئے ہیں، جن کی مالیت ایک ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سال1990 کے بعد سیمنٹ کی ریکارڈ فروخت

فیاض الیاس نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملکی معیشت کو تعمیراتی صنعت کے ذریعے ترقی دینے کیلئے تعمیراتی صنعت کیلئے مراعاتی پیکیج دیا ہے، جس کے تحت تعمیراتی صنعت اور ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن ظاہر نہ کرنے کی چھوٹ 30 جون 2021ء جبکہ فکسڈ ٹیکس ریجیم کی سہولت کیلئے 31 دسمبر 2021ء تک کیلئے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا ہے، تاہم کرونا کی چوتھی لہر اور این او سیز کی منظوری میں رکاوٹوں کے باعث بالخصوص سندھ میں بلڈرز اور ڈیولپرز حقیقی معنوں میں اسکیم سے مستفید ہونے سے قاصر رہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنیوالوں کو دی گئی سہولت 30 جون 2022ء تک اور تعمیراتی پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے مقررہ سال 2023ء میں توسیع کرکے سال 2024ء مقرر کی جائے۔

مزید جانیے : مالی سال 2020-21 میں سیمنٹ کی ریکارڈ سطح پر فروخت

آباد کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے کرونا وباء کے باعث پوری دنیا کی طرح پاکستان کی معیشت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، کرونا کی دوسری اور تیسری لہر کے باوجود ایمنسٹی اسکیم کے مثبت اثرات سیمنٹ، سریا کی ملکی تاریخ کی بلند ترین پیداوار اور پینٹ، ٹائلز سمیت دیگر تعمیراتی مصنوعات کی ریکارڈ فروخت کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں جبکہ 100 فیصد پیداوار کے باوجود سیمنٹ، سریا اور دیگر تعمیراتی طلب کو پورا کرنا مشکل ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیمنٹ اور سریا کے مزید پلانٹس لگائے جارہے ہیں اور تعمیرات کی ذیلی صنعتوں میں بڑے پیمانے پر توسیع کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے ریلیف پیکیج کے ذریعے اہداف اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے، جب تک ایمنسٹی اسکیم میں مزید 6 ماہ کی توسیع نہ کی جائے۔ فیاض کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بلڈرز، ڈیولپرز اور تمام بزنس کمیونٹی کا مطالبہ ہے کہ ایمنسٹی اسکیم میں مزید ایک سال کی توسیع کی جائے۔

ASSOCIATION OF BUILDERS AND DEVELOPERS

Tabool ads will show in this div