خطیب بادشاہی مسجد کا وزیراعظم کا فیصلہ ماننےسےانکار

مسجد محکمہ اوقاف سے واپس لینے پرمولانا آزاد کاسخت موقف

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/07/Badshahi-Masjid-Controversy-Lhr-Usman-Pkg-28-07.mp4"][/video]

وزیراعظم نے لاہور کی بادشاہی مسجد کا کنٹرول محکمہ اوقاف سے واپس لینے کی ہدایت کی ہے تاہم مسجد کے خطیب نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔

خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد نے مسجد کسی اور ادارے کے حوالے کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے والڈ سٹی اتھارٹی کو خبردار کیا کہ وہ ان کے معاملات میں  دخل اندازی نہ کرے۔

مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ والڈ سٹی اتھارٹی کی پرانی خواہش ہے کہ وہ بادشاہی مسجد پر  قبضہ کرے لیکن ہم مسجد ایسے ہاتھوں میں نہیں دیں گے جو کل کو اس کا غلط استعمال کریں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ہمیں فنڈزز دیں ہم اس کی دیکھ بھال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ والڈ سٹی اتھارٹی 10 سال سے ہمارے پیچھے پڑی ہے، اس کے پاس شاہی قلعہ ہے پہلے اس کو تو مکمل کرلے، ہاں اگر کوئی تعمیراتی کام کرنا ہے تو ضرور آئیں لیکن قبضہ لینا چاہتے ہیں تو پھر وہ نہیں ہوسکتا۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ وزیراعظم تک اصل بات نہیں پہنچی اگر ہم اس محفل میں ہوتے تو انہیں حقیقیت سے آگاہ کرتے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے  12جولائی کو شاہی مسجد کا کنٹرول محکمہ اوقاف سے واپس لے کر والڈ سٹی یا محکمہ سیاحت کو دینے کی ہدایت کی تھی۔ مغلیہ دور کی اس عالیشان مسجد میں 60 ہزار سے زائد افراد کے  نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔

Badshahi Masjid

Tabool ads will show in this div