نورمقدم قتل: ظاہر جعفر کا نام بلیک لسٹ میں شامل

ملزم کا مزید 2روز کا جسمانی ریمانڈ منظور

سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل ميں ملوث ملزم ظاہر جعفر کا نام بلیک لسٹ کرديا گيا۔ وزير داخلہ شيخ رشيد کہتے ہيں ای سی ايل ميں نام ڈالنے کی منظوری وفاقی کابينہ سے لی جائے گی۔ ماتحت عدالت نے ملزم کا مزید 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

اسلام آباد کے علاقے ایف سیون میں سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کو عید الاضحیٰ سے ایک دن قبل انتہائی سفاک طریقے سے قتل کردیا گیا تھا، پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ اس کے والدین کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے۔

پولیس نے نور مقدم قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو اسلام آباد میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا، تھانہ کوہسار پولیس نے قاتل کے ریمانڈ میں مزید توسیع کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے موبائل ریکور کرنا ضروری ہے۔

وکیل صفائی نے ریمانڈ میں توسیع کی سخت مخالفت کی تاہم عدالت نے ظاہر جعفر کا مزید 2 روز کا ریمانڈ منظور کرلیا، ساتھ ہی ملزم کو دوبارہ 28 جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

متاثرہ فیملی کے وکیل شاہ خاور نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مقدمے میں نئی دفعات شامل کی گئی ہیں، عینی شاہدین کو بھی ملزم شمار کیا جانا خوش آئند قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے والدین کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیاگیا

انہوں نے کہا کہ پولیس کیس کو بالکل ٹھیک سمت میں لے کر جارہی ہے، جنہوں نے واقعہ دیکھا اور رپورٹ نہیں کیا، انہیں پولیس نے گواہ بنانے کی بجائے ملزم بنایا۔

دوسری جانب وفاقی وزارت داخلہ نے ملزم ظاہر جعفر کے بیرون ملک فرار کا راستہ بھی بند کردیا۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ نور مقدم کیس میں مرکزی ملزم کا نام پی این آئی ایل (پراونشل نیشنل آئیڈینٹی فکیشن لسٹ) اور بلیک لسٹ میں نام ڈال دیا گیا ہے، اسی ہفتے اس کا ای سی ایل میں نام ڈالنے کیلئے سمری کابینہ میں چلی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم ظاہر جعفر کے باپ کو اور ملازموں کو بھی لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے، کسی سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

استغاثہ نے یہ توقع بھی ظاہر کی ہے کہ پولیس ملزم سے تفتیش 2 روز میں مکمل کرلے گی۔

Noor Muqaddam Murder Case

Tabool ads will show in this div