نیا قانون، خواتین نے محرم کے بغیر حج ادا کیا

رواں سال40فیصدخواتین نےحج کی سعادت حاصل کی
بشکریہ اے ایف پی
بشکریہ اے ایف پی
Pakistani pilgrim Bushra Ali Shah, 35, bids her husband farewell before departing to Hajj, for the first time without a male guardian, from her home in Saudi Arabia's Red Sea coastal city of Jeddah, on July 16, 2021. - The hajj ministry has officially allowed women of all ages to make the pilgrimage without a male relative, known as a "mehrem", on the condition that they go in a group. (Photo by Fayez Nureldine / AFP)
Pakistani pilgrim Bushra Ali Shah, 35, bids her husband farewell before departing to Hajj, for the first time without a male guardian, from her home in Saudi Arabia's Red Sea coastal city of Jeddah, on July 16, 2021. - The hajj ministry has officially allowed women of all ages to make the pilgrimage without a male relative, known as a "mehrem", on the condition that they go in a group. (Photo by Fayez Nureldine / AFP)
بشکریہ اے ایف پی

سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اعلان کے بعد پہلی بار خواتین کے گروپ نے محرم کے بغیر حج ادا کیا، اس سے قبل خواتین کو بغیر محرم حج ادا کرنے کی اجازت نہ تھی۔

گروپ میں شامل 35 سالہ بشریٰ شاہ کا تعلق پاکستان سے ہے، جو سعودی عرب میں ہی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہتی ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے محرم کی شرط ختم کرنے بعد پاکستان کی 35 سالہ بشریٰ شاہ سمیت دیگر چند خواتین نے اس سال پہلی بار محرم کے بغیر فریضہ حج ادا کیا ہے۔

اے ایف پی سے گفتگو میں بشرٰی شاہ کا کہنا تھا کہ مجھے بچپن سے ہی اللہ کے گھر کی زیارت کی تمنا تھی اور یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ خواب اس طرح ایک تاریخی موقع پر پورا ہوا۔ میرے ساتھ کئی اور خواتین بھی ہیں اور ہم سب بہت خوش ہیں۔

بشریٰ شاہ کے شوہر علی کا کہنا تھا کہ میں نے اہلیہ کی حوصلہ افزائی کی اور گھر میں رہ کر اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کی۔

بشریٰ نے بتایا کہ حکومتی کے اعلان کے باوجود بہت سی ٹریول ایجنسیاں اور حج آپریٹ کرنے والے ادارے اس بات پر متفق نہیں تھے کہ وہ بغیر محرم کے خواتین کو لے جائیں۔ تاہم جب انہیں یہ ایک موقع ملا تو وہ بہت خوش تھیں۔

گروپ میں شامل نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں یہ سب خواب لگ رہا ہے۔ گروپ میں برطانیہ سے بھی خاتون شامل تھیں۔ جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ سعدیہ کا اے ایف پی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ مکہ میں رہتی ہیں اور یہاں تک آنے میں ان کے شوہر نے ان کا بہت ساتھ دیا، تاکہ مجھے گھر اور بچوں کی فکر نہ رہے۔

واضح رہے کہ رواں برس کرونا وبا کی وجہ سے صرف 60 ہزار عازمین کو فریضہ حج ادا کرے کی اجازت دی گئی تھی جس کے لیے اولین شرط ویکسینیشن کروانا تھی۔ اس سال حج کرانے والوں میں 40 فیصد خواتین ہیں۔

رہورٹ کے مطابق اس سال 60 ہزار عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی، جس میں 40 فیصد خواتین شامل ہیں۔

SAUDIA ARAB

Tabool ads will show in this div