ٹک ٹاک ایپ پاکستان میں پھر بلاک کردی گئی

نوٹی فیکیشن جاری کردیا گیا
فائل فوٹو

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) نے ایک بار پھر موبائل ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کو پاکستان میں بند کردیا ہےْ

ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ کارروائی سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت کی گئی ہے۔ ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ تک رسائی کو بلاک کردیا گیا ہے۔ کارروائی نامناسب مواد کی مستقل موجودگی پر کی گئی ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹک ٹاک نامناسب مواد کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ پی ٹی اے کی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر ایکشن لیا گیاْ۔

مجاز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں پی ٹی اے نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ تک رسائی کو بلاک کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مختلف عدالتوں کی جانب سے بھی ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے احکامات آتے رہے ہیں۔ رواں سال 11 مارچ کو عدالت نے ملک بھر میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی تھی جس سے ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن تک عوام کی رسائی بلاک ہوگئی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پی ٹی اے، کے حکام نے پشاور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ انھوں نے بڑی تعداد میں اس ایپ سے غیر اخلاقی مواد ہٹا دیا ہے اوراس کے علاوہ وہ ٹاک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔

بعد ازاں یکم اپریل کو عدالت نے پابندی ہٹا دی تھی ساتھ ہی پی ٹی اے کو یہ بات یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی کہ کوئی بھی غیر اخلاقی اور نامناسب مواد اس ایپلیکیشن پر اپلوڈ نہیں کیا جائے گا۔

یہ پہلی بڑی سوشل میڈیا ایپ تھی جو سیلیکون ویلی کے باہر سے چلائی جاتی ہے۔ اس چینی پلیٹ فارم کی لوگوں میں مقبولیت کئی تنازعات کے باوجود واٹس ایپ، انسٹاگرام اور ٹوئٹر جیسی ہے۔

سال 2020 کے آخر میں ٹک ٹاک سال کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ بن  قرار دی گئی تھی۔

تاریخ شاید ٹک ٹاک کو بلیک لائیوز میٹر کی تحریک میں اہم ترین ماننے گی کیونکہ اس کی ڈسکور پیج پر تشہیر کی گئی اور اس کے ہیش ٹیگ کو 23 ارب سے زیادہ دفعہ دیکھا گیا۔

CHINA

Tabool ads will show in this div