کالمز / بلاگ

اٹلی 53 سال بعد یورپی فٹبال کا بادشاہ بن گیا

انگلینڈ کی پہلی بار ٹائٹل جیتنے کی خواہش خاک میں مل گئی

اٹلی  یورو فٹبال چیمپئن شپ 2020 کے فائنل میں  انگلینڈ کو  اس کے ہوم گراؤنڈ ویمبلے اسٹیڈیم میں  پنالٹی ککس پر3-2 سے شکست دے کر 53 سال کے طویل وقفے کے بعد دوسری بار  یورپی فٹبال کنگ بن گیا۔

اطالوی ٹیم کی اس فتح میں گول کیپر ڈونا روما نے ہیرو کا کرادا ادا کیا جنہوں نے دو پنالٹی ککس روک کر اپنے ملک کیلئے فتح کی راہ ہموار کی۔ اس کامیابی کے ساتھ اطالوی فٹبال ٹیم کے ناقابل شکست رہنے کا سلسلہ 34 میچوں تک  دراز ہو گیا۔

60ہزار سے زائد تماشائیوں کی موجودگی میں اطالوی ٹیم نے فائنل میچ کے دوران زبردست پرفارمنس دکھائی گو کہ اسٹیڈیم میں اسے معمولی سپورٹ حاصل تھی اور برطانیہ میں رہنے والے چند ہزار اطالوی  ان کی حوصلہ افزائی کیلئے موجود تھے۔

اٹلی نے 53 سال کے وقفے کے بعد یور ٹائٹل جیتا ہے جو دو کامیابیوں کے درمیان سب سے بڑا وقفہ ہے اس سے قبل اسپین کو  1964 میں یورو کپ جیتنے کے بعد دوسرے ٹائٹل کیلئے 2008 تک انتظار کرنا پڑا تھا۔

اٹلی کے یور ٹائٹل جیتنے سے اطالوی عوام میں خوشی کی لہر دوڑگئی جو کرونا وبا کی تباہ کاریوں کی وجہ سے کافی افسردہ تھے۔ گزشتہ سال کرونا کی وبا سے اٹلی میں ہزاروں اموات ہوئی تھیں اور وہاں لوگوں کے گھروں سے باہر کلنے پر سخت پابندی عائد تھی۔

وطن واپسی پر اطالوی فٹبالرز کا کا زبردست استقبال کیا گیا یورو چیمپئن بننے پر اطالوی مینیجر رابرٹو منچینی کی آنکھوں سے آنسورواں تھے اور وہ کوشش کے باوجود خوشی کے یہ آنسو نہیں چھپا سکے۔

انہوں نے ورلڈ کپ 2018  میں کوالیفائی نہ کرنے والی تباہ حال ٹیم کو دو سال کی محنت اور تربیت سے ایک ناقابل تسخیر جتھے میں ناصرف تبدیل کر دیا بلکہ  یورپی فٹبال کا تاج  بھی اس کے سر پر سجا دیا ہے جس پر وہ بجا طور پر داد کے مستحق ہیں۔

رابوٹو منچینی  خود بھی اپنے زمانے کے اچھے فارورڈ شمارکیے جاتے تھے۔  انہوں نے انلی کی انڈر 21 اور اطالوی قومی ٹیم میں نمائندگی کی لیکن  وہ بطور کھلاڑی  کوئی ٹرافی نہیں جیت سکے مگر اب انہوں نے ملک کو اپنی کوچنگ سے یورپی چیمپئن بنوا دیا۔

 انگلش فٹبال ٹیم یورو کی تاریخ میں پہلی بار فائنل میں پہنچی تھی۔ اس کے کھلاڑی جیت کے جذبے سے سرشار تھے۔ وہ  ہیری کین کی قیادت میں ہوم گراؤنڈ پر پہلی بار یورو ٹائٹل جیتنے کی امید لیے ویمبلے  اسٹیڈیم میں اترے تھے۔

انگلش ٹیم نے میچ کا انتہائی برق رفتاری سے آغازکیا جس کے نتیجے میں دوسرے ہی منٹ میں کیرن ٹرپر کے خوبصورت کراس پر لیوک شا نے  ہاف والی کے ذریعے گیند کو اطالوی جال میں پہنچا دیا اور ڈونا روما اسے روکنے میں ناکام رہے۔

یہ یورو فائنل کی تاریخ کا تیزترین گول تھا اور اٹلی کے خلاف یورو میں کبھی اتنے کم وقت میں گول نہیں ہوا تھا۔  ٹرپر اس ٹورنامنٹ میں انگلینڈ کی ابتدائی الیون میں شامل نہیں ہوتے تھے لیکن فائنل میں مینیجر ساؤتھ گیٹ نے ٹرپر کو  ساکا کی جگہ پہلی بار ابتدائی الیون میں شامل کیا تھا اور ان کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔ ساؤتھ گیٹ نے مسلسل  37  میچز کے بعد پہلی مرتبہ انگلش ابتدائی الیون میں تبدیلی کی تھی۔

ایک گول کی سبقت حاصل کرنے کے بعد انگلش فٹبالرز نے اپنی برتری میں مزید اضافہ کرنے کیلئے  اطالوی ٹیم پر دباؤ بڑھایا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اطالوی ٹیم یورو   2020 میں ایک گول سے خسارے میں تھی۔ اس ابتدائی گول نے انگلش ٹیم کے عزائم آشکار کر دیئے تھے۔ ساتویں منٹ میں اٹلی کو  باکس کے باہر فری کک ملی تھی لیکن لورنزو انسنیئے کی فری کک گول بار کے اوپر سے نکل گئی۔

ایک گول سے خسارے میں جانے کے بعد اطالوی ٹیم کو سنبھلنے میں کچھ وقت لگا   اور انہوں نے اپنی  شارٹ پاسزکی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے زیادہ تر گیند کو اپنے قبضے میں رکھا اور انگلش گول پوسٹ کی جانب دباؤ بڑھایا لیکن ٹورنامنٹ  کے چھ میچز میں کلین شیٹ رکھنے والے گول کیپر پکفورڈ‘ ہیری میگوائر‘ ڈیکلن رائس اور لیوک شا ان  کے سامنے دیوار بنے رہے۔

اٹلی کے فیڈریکو  چیسا‘ انسنیئے‘ بنیو چی‘  چیلینی‘ایموبیلی ‘ ویراٹی‘ ایمرسن‘ جارجینیہو‘ بیریلا  نے کئی اچھی مووز بنائیں۔ گیند پر اٹلی  کے کنٹرول کو دیکھتے ہوئے انگلش کھلاڑی دفاع میں چلے گئے لیکن جب بھی ان کے پاس گیند آتی تھی تو تیزی کے ساتھ اطالوی گول پوسٹ تک جاتے تھے۔

دونوں ٹیمیں کوششوں کے باوجود گول نہ کرسکیں۔ کھیل کے 35 ویں منٹ میں  چیسا نے اپنے ہاف سے گیند کو حاصل کیا اور برق رفتاری نے چار حریف کھلاڑیوں کو چکمہ دیتے ہوئے آگے بڑھے لیکن اس کی زوردار شاٹ گول پوسٹ کے قزیب سے باہر چلی گئی پہلا ہاف انگلینڈ کی ایک گول کی سبقت پر ختم ہوا۔

دوسرے ہاف میں بھی اطالوی فٹبالرز  نے اپنی شارٹ پاسز کی حکمت عملی کو اپنائے رکھا اور گیند کو انگلش باکس کے قریب لے جا کر واپس اپنے ہاف میں لاتے تھے تاکہ گیپ بنایا جا سکے۔ اس دوران اٹلی کو تین فری ککس ملیں لیکن وہ ان کیلئے فائدہ مند نہیں ہو سکیں۔

تاہم 62 ویں منٹ میں انگلش گول کیپر پکفورڈ نے چیسا کی گول کرنے کی یقینی کوشش کو لمبی ڈائیو کر کے ناکام بنایا اور گیند کو گول پوسٹ میں جانے سے  روک لیا۔

اطالوی کھلاڑیوں نے انگلش ٹیم پر اپنا دباؤ برقرار  رکھا اور 66 ویں منٹ میں اٹلی کوکارنر ملا۔ کارنر کک  پر باکس ایریا میں کھلاڑیوں کی کش مکش کے دوران اطالوی فٹبالر ویراٹی نے ہیڈ لگایا تو  روکا مگر گیند ان کے ہاتھ سے پھسل کر گول پوسٹ سے لگی اور واپس آئی جس پر قریب ہی موجود اطالوی لیونارڈو بنوچی نے اسے گول میں پہنچانے میں ذرا برابر غلطی نہیں کی اور اسکور 1-1 سے برابر کرے اٹلی کومیچ میں واپس لے آئے۔

مقررہ وقت میں دونوں ٹیموں کی برتری کی کوششیں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکیں۔ مقررہ وقت کے بعد نصف گھنٹے کے اضافی وقت میں بھی  اچھی مووزاور اٹیکنگ کھیل کے باوجود کوئی بھی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی  اوراس طرح  میچ  پنالٹی شوٹ آؤٹ  پر چلا گیا۔   مھزاینڈ کی جانب سے پہلی اور دوسری پنالٹی کک پر ہیری میگوائر اور ہیری کین نے گول کر دیئے تھے جبکہ  انگلینڈ کی جانب سے اضافی وقت میں متبادل کھلاڑی کے طور پر آنے والے مارک ریشفورڈ کی پنالٹی کک گول پوسٹ سے ٹکراکر باہرچلی گئی تھی جبکہ گول کیپر ڈونا روما نے جیڈن سانچو اور بوکمایو ساکا کی پنالٹی ککس کو روک لیا تھا۔

اٹلی کی جانب سے  ڈومینیکو برارڈی‘ بونیوچی‘فریڈریکو برنارڈچی نے گول کیے۔ جبکہ پکفورڈ نے اینڈریا بیلوٹی اور جارجینہو کی شوٹس کوروک لیا تھا۔

اٹلی کے لیونارڈو بنوچی یورو فائنل میں گول کرنے والے معمر ترین کھلاڑی بن گئے جنہوں نے  34 سال  71 دن کی عمر میں گول کیا ان سے قبل 1976 میں مغربی جرمنی کے برنڈ ہولزلبین نے 30 سال 130 دن کی عمر میں چیکوسلواکیہ کے خلاف گول کیا تھا۔

اس سے قبل صرف ایک مرتبہ یورو فائنل کا فیصلہ پنالٹی ککس پر ہوا تھا جب 1976 میں مغربی جرمنی اور چیکوسلواکیہ کا بلغراد کے ریڈ اسٹیڈیم میں ہونے والا فائنل میچ مقررہ اور اضافی وقت میں  2-2 سے برابر تھا جس کا فیصلہ پنالٹی ککس پر ہوا اور چیکوسلواکیہ 5-3 سے جیت گیا تھا۔

 ویمبلے میں فائنل میچ کے دوران اطالوی ٹیم کاگیند پر زیادہ قبضہ رہا اور ان کی پاسنگ بھی مثالی تھی۔ انگلینڈ کے پاس گیند صرف 34.4 فیصد رہی جو اس اسٹیڈیم میں 2016 کے بعد کم ترین تناسب تھا۔ پنالٹی ککس پر انگلینڈ کا ریکارڈ کوئی اچھا نہیں ہے۔ ورلڈ کپ اور یورو جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں پنالٹی ککس پر انگلینڈ کی کامیابی کا تناسب صرف 22 فیصد ہے جو یورپ میں کم ترین ہے۔ انگلینڈ نے پنالٹی ککس پر 9 میں سے صرف دو میچ جیتے ہیں۔

اٹلی کو 53 سال بعد یورو کپ جتوانے میں مرکز کردار ادا کرنے والے 22 سالہ گول کیپر جیان لوگی ڈونا روما کو  ٹورنامنٹ کا بہترین پلیئر قرار دیاگیا۔ انہوں نے پنالٹی ککس کے اہم ترین مرحلے میں دو  شوٹس روکنے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔

وہ ٹورنامنٹ کے دوران سب سے زیادہ عرصے تک گراونڈ میں موجود رہے۔ وہ مجموعی طور پر 719 منٹ کھیلے۔ وہ 1992 میں ڈنمارک کے  پیٹر شمائیکل کے بعد یورو میں بہترین کھلاڑی کا اعزازحاصل کرنے والے دوسرے گول کیپر ہیں۔ ڈونا روما اطالوی فٹبال کلب اے سی میلان چھوڑ کر فرانسیسی کلب پیرس سیٹ جرمین (پی ایس جی) میں شمولیت اختیار کررہے ہیں جس سے  برازیل کے  نیمار اورفرانس کے کلیان امباپے بھی کھیلتے ہیں۔

 اسپین کے  مڈفیلڈر پیڈری کو ٹورنامنٹ میں بہترین نوجوان کھلاڑی قرار دیا گیا۔ یورو میں فٹبال چیمپئن شپ میں  پیڈری نے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

ہسپانوی کوچ  لوئیس اینرک کا کہنا تھا کہ پیڈری  نے 18 سال کی عمر میں جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اتنی عمرمیں اینیسٹا بھی ایسا نہیں کر سکا تھا۔ پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو پانچ ذاتی اور جرمتنی کے خلاف ایک گول میں معاونت کی وجہ سے ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر اور گولڈن بوٹ کے مستحق  قرار پائے۔ جمہوریہ چیک کے اسٹرائیکر  پیٹر ک چک نے بھی پانچ گول کیے تھے لیکن ایک گول میں معاونت کی وجہ سے رونالڈو کو ترجبح مل گئی۔

 اٹلی کی ٹیم نے چار فیفا ورلڈ کپ   1934, 1938, 1982 اور 2006 میں جیتے تھے اور اطالوی ٹیم یورو 1980 میچ چوتھے‘ یورو کپ 1988 میں تیسرے نمبر پر رہی تھی۔

اٹلی کی فٹبال ٹیم یورو 2000 اور یورو2012 میں رنرزاپ تھی۔ اٹلی نے یورو 2012 کے کیف میں کھیلے جانے والے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کو پنالٹی ککس پر شکست دی تھی جس میں ایشلے ینگ اور ایشلے کول کی پنالٹی شوٹ ضائع ہو گئی تھیں۔

اٹلی  ورلڈ کپ اور یورو جیسے بڑے فٹبال ایونٹس میں انگلینڈ سے کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوا۔ یورو فائنل سے پہلے بڑے ٹورنامنٹس میں  اٹلی نے انگلینڈ کے خلاف تین میچ جیتے تھے اور ایک میچ برابر رہا تھا۔

ویمبلے اسٹیڈیم میں پنالٹی شوٹ آؤٹ  25 سال بعد بھی انگلش مینیجر شاؤتھ گیٹ کیلئے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔  اسی اسٹیڈیم میں یورو 1996 کے سیمی فائنل میں جرمنی نے انگلینڈ کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دی تھی مقررہ وقت میں میچ ایک ایک گول سے برابر رہا تھا اور اضافی وقت میں بھی کوئی ٹیم گول نہیں کر سکی تھی۔

اس میچ میں بھی انگلینڈ کے ایلن شیرر نے برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے  تیسرے منٹ میں گول کر کے انگلینڈ کو برتری دلوا دی تھی لیکن جرمنی کے اسٹیفن کنز نے 16 ویں منٹ میں گول برابر کر دیا تھا۔ میچ کو فیصلہ کن بنانے کیلئے پانچ پانچ پنالٹی ککس دی گئی تھیں جن پر انگلینڈ اور جرمنی کے کھلاڑیوں نے گول کر دیئے تھے اور کوئی بھی پنالٹی ضائع نہیں ہوئی تھی۔

انگلینڈ کی جانب سے چھٹی پنالٹی کک ساؤتھ گیٹ نے لگائی جس کو  جرمن گول کیپر اینڈریس کوپکی نے روک لیا  جبکہ جرمنی کے   اینڈریس مولر نے چھٹی پنالٹی کک پر گول کر کے اپنی ٹیم کو فائنل میں پہنچا دیا تھا۔

 ساؤتھ گیٹ پنالٹی کک ضائع ہونے کے کرب اور تکلیف سے بخوبی آگاہ ہیں جیسے ہی19 سالہ بوکایو ساکا کی لگائی گئی پانچویں پنالٹی  کو ڈونا روما نے بھرپور ڈائیو لگاتے ہوئے گول پوسٹ میں جانے سے روکا تو ساکا نے اپنا چہرہ شرٹ میں چھپا لیا۔

انگلش ٹیم کے ساتھی کھلاڑی اورمینیجر ساؤتھ گیٹ فوری  طور پر ساکا  کے گرد جمع ہوگئے اور اسے دلاسہ دیا۔  مینیجر ساؤتھ گیٹ نے کافی دیر تک ساکا کوگلے لگا کر رکھا اور اس سے گفتگو کرتے رہے کیونکہ وہ خود بھی اپنے کیریئر میں اس صورت حال سے گزر چکے تھے۔

اگر یہی پنالٹی کک گول پوسٹ میں چلی جاتی تو ساکا ہیرو بن جاتے۔ پنالٹی ککس بڑے کھلاڑیوں سے ہی ضائع ہوتی ہے۔ اٹلی کے رابرٹو باجیو نے بھی فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں آخری پنالٹی کک ضائع کی  تھی جو ٹیم کی شکست کا سبب بنی تھی۔

ساوتھ گیٹ اور ہیری کین کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت کو نسل پرستانہ رویہ اختیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ انگلش ٹیم نے فائنل میں رسائی کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور پوری قوم  ریشفورڈ‘ ساکا اور سانچو کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور فٹبال بڑا ظالم کھیل ہے جس میں ذرا سی  چوک میچ کا پانسہ پلٹ دیتی ہے۔

ہیری کین نے کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹے بلکہ ہم نے فائنل میں پہنچ کر پیش قدمی کی ہے اور اگلی بار ٹائٹل ہمارے  ہاتھوں میں ہوسکتا ہے۔

اٹلی کو آخری شکست  یوایفا نیشنز لیگ میں اس وقت کے یورو چیمپئن پرتگال کے ہاتھوں 10 ستمبر 2018  کو آندری سلوا کے گول کی بدولت 0-1  سے شکست ہوئی تھی۔

اطالوی ٹیم کی فیفا ورلڈ کپ 2018 فائنلز میں ناکامی کے بعد رابرٹو منچینی نے مینیجر کی ذمہ داری سنبھالی  اور ان کی تقرری کے دو ہفتے بعد ہی اطالوی فٹبالرز نے پہلی کامیابی سعودی عرب کے خلاف 2-1 سے قتح  حاصل کر کے کامیابیوں کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا آغاز کیا تھا اور اب اطالوی ٹیم مسلسل 34 میچز میں ناقابل شکست ہے۔  اٹلی  نے 34 میچز میں سے 29 جیتے اور پانچ برابر رہے۔ اس سفر میں  اطالوی فٹبال ٹیم نے  14 نومبر 2018 کو آرمینیا کو 9-1  کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی۔ اٹلی نے بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا‘ پولینڈ‘ جمہوریہ چیک‘ ہالینڈ‘ ناردرن آئرلینڈ‘ ترکی‘سوئیزرلینڈ‘ ویلز‘ آسٹریا‘ بلجیئم‘  اسپین اور انگلینڈ کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ ان 34 میچز میں اٹلی نے حریف ٹیموں کے خلاف 89 گول کیے جبکہ اس کے خلاف صرف 11 گول ہوئے۔

 اب اٹلی کو سب سے زیادہ  35  میچوں میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ برابر کرنے کیلئے صرف ایک میچ کی ضرورت ہے۔ برازیل 1993 سے 1996 تک اور اسپین 2007 سے 2009 تک مسلسل 35  میچوں میں ناقابل شکست رہے تھے۔

یورو  فٹبال چیمپئن شپ فائنلز کا میلہ 31 دن تک یورپ کے مختلف شہروں میں سجا رہا جس میں 51 میچ کھیلے گئے اور  142 گول ہوئے اور اٹلی چیمپئن بنا۔ اس ٹورنامنٹ میں فٹبال کی عالمی نمبر ایک ٹیم بلجیئم‘ فیفا ورلڈ چیمپئن فرانس اور یورو دفاعی چیمپئن  پرتگال کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جورجیو چیلینی‘ لیونارڈو بنوچی سمیت کئی  اطالوی کھلاڑیوں کیلئے یورو جیتنے کا آخری موقع تھا۔

فائنل میں انگلینڈ کی شکست کے بعد سفید فام انتہا پسندوں  نے سوشل میڈ یا پر ریشفورڈ‘ سانچو اور ساکا کے خلاف نسل پستانہ منافرات سے بھرپور کمنٹس کا سیلاب برپا کر دیا۔ یہ تینوں کھلاڑی سیاہ فام تھے اس لیے ان کوٹارگٹ بنایا گیا۔

مانچسٹر میں ریشفورڈ کے میورل کو بھی سفید فام شرپسندوں نے مسخ کر دیا تھا۔ برطانیہ میں مذہبی اور نسلی  اقلیتوں کے خلاف منافرت پائی جاتی ہے۔ کھیلوں کے شعبے میں بھی یہ منافرت  بدرجہ اتم موجود ہے جس کا اظہارگاہے بہ گاہے ہوتا رہتا ہے۔ کئی کھلاڑیوں نے اس کے خلاف آوازبھی اٹھائی  اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے۔

لیکن حالیہ منافرانہ طوفان بدتمیزی پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن‘ انگلینڈ فٹبال ایسوسی ایشن اور انگلش ٹیم نے فوری طور پر سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا اورکہا کہ ہمیں اپنے ان کھلاڑیوں پر فخر کرنا چاہیے جنہوں نے تاریخ میں پہلی بار ٹیم کو یورو فائنل میں پہنچایا۔

بارمی آرمی کے نام سے جانے جانے والے انگلش فٹبال فین اپنے متشدد رویے کی وجہ دنیا بھر میں بدنام ہیں اور ایسے سیکڑوں انگلش مداح  ہیں جن کی  تصاویر ریکارڈ پر ہیں جب بھی بڑے اور اہم فٹبال میچ ہوتے ہں تو ان  متشدد مداحوں کے اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے کیونکہ  ان کی موجودگی سے اسٹیڈیم میں ہنگامہ آرائی کا خطرہ ہوتا ہے۔

فائنل میں میں شکست کے بعد دلبرداشتہ انگلش تماشائیوں نے اسٹیڈیم کے باہر  ہنگامہ آرائی اور توڑپھوڑ ہی نہیں کی بلکہ میچ دیکھنے کیلئے آنے والے اطالوی شہریوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

اسی طرح ڈنمارک کے خلاف سیمی فائنل کے بعد میچ دیکھ کر واپس جانے والی  ڈینش فیملی کو  بس میں سفید  فام انتہا پسندوں  کے ایک گروپ نے دھمکیاں دیں جس سے ڈینش بچے خوفزدہ ہوکر رہ گئے۔ اس واقعے کی رپورٹ پولیس کو دی گئی تھی۔  یوایفانے بھی  سیکورٹی خلاف ورزی کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

EUROPEAN UNION

EURO CUP

Euro Cup 2021

Tabool ads will show in this div