عیدالاضحیٰ پر قربانی اور عقیقہ ساتھ کیا جاسکتا ہے؟

فقہ حنفی اور جعفریہ کے نزدیک قربانی و عقیقہ کے مسائل

عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کرنے لگتا ہے کہ قربانی اور عقیقہ ایک ساتھ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

قربانی اور عقیقہ ایک ساتھ کرنے کو جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی نے جائز عمل قرار دیا ہے جبکہ فقہ جعفریہ کے نزدیک ایک ہی جانور پر قربانی اور عقیقہ کی نیت نہیں کی جاسکتی۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کے مفتی عبدالمنان نے کہا کہ عیدالاضحیٰ پر قربانی اور عقیقہ ایک ساتھ کرنا جائز ہے، اس لئے ایسے شخص کیلئے ضروری ہے کہ بڑے جانور میں 2 حصے رکھے یا پھر دو چھوٹے جانور خریدے۔

بڑے اور چھوٹے جانور سے متعلق مفتی عبدالمنان نے بتایا کہ بڑے جانوروں میں گائے، بیل اور اونٹ شامل ہے جس میں قربانی کے 7، 7 حصے ہوتے ہیں جبکہ چھوٹے جانوروں میں بکرا، دنبہ اور بھیڑ کا ایک ایک حصہ شمار ہوتا ہے۔

جامعہ دارالعلوم کے مفتی نے کہا کہ بڑے جانور میں 7 حصے ہوتے ہیں جس میں سے ایک حصہ قربانی اور دوسرا حصہ عقیقہ کی نیت سے رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، عقیقہ کرنیوالے شخص کو 2 چھوٹے جانور خریدنا ہوں گے جس میں سے ایک جانور قربانی کی نیت اور دوسرا عقیقہ کی نیت سے لیا جائے گا۔

مفتی عبدالمنان نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی شخص عیدالاضحیٰ پر صرف قربانی کی استطاعت رکھتا ہوں تو اسے صرف قربانی کرنی چاہئے کیونکہ قربانی ہر مسلمان پر واجب جبکہ عقیقہ مستحب (مسنون) عمل ہے۔

قربانی کس پر واجب ہے؟

فقہ جعفریہ

اس حوالے سے امریکا میں مقیم اہل تشیع مولانا یعقوب شاہد آخوندی کا کہنا تھا کہ قربانی اور عقیقہ کا تصور دونوں الگ ہیں، لہٰذا دونوں کو جمع کرکے ایک ہی جانور پر 2 قسم کی نیت نہیں ہوسکتی۔

مولانا یعقوب کا کہنا تھا کہ اگر جانور قربانی کی نیت سے ذبح ہو رہا ہے تو عقیقہ کی نیت سے ذبح نہیں ہوگا اور اگر جانور عقیقہ کی نیت سے ذبح ہوتا ہے تو اس پر قربانی کی نیت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ دونوں کے تصورات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ قربانی کا گوشت کوئی بھی کھا سکتا ہے لیکن عقیقہ کے بکرے کی نیت الگ ہے، اس کے اوپر پڑھی جانے والی دعا الگ ہے جبکہ اس کے گوشت کو تقسیم کرنے اور بوٹیاں یا حصے بنانے کا طریقہ بھی قربانی کے جانور سے الگ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے یا بیٹی کا عقیقہ کرتا ہے تو اس جانور کو ایک خاص نیت اور دعا کے ساتھ ذبح کیا جاتا ہے اور قربانی کے جانور کی طرح اس کے جسم کی ہڈیاں نہیں توڑی جاتی بلکہ ہڈیوں کو گوشت سے الگ کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عقیقہ کے جانور کے گوشت کو غریبوں یا مستحق لوگوں میں بانٹنا ہوتا ہے البتہ بچے کے ماں باپ سمیت خونی رشتے میں شامل افراد گوشت نہیں کھا سکتے، غیر افراد کو صرف گوشت دینا ہے۔

مولانا یعقوب شاہد آخوندی کا کہنا تھا کہ جانور کی ہڈیاں، سر، پیر اور کھال کو کسی پاک جگہ پر لے کا کر دفنانا ہوتا ہے۔

حنفی مسلک کے تحت عقیقہ کیا ہے؟

جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن نے اپنے ایک فتوے میں بتایا ہے کہ ’’لڑکے کی ولادت پر اگر استطاعت ہو تو دو بکرے یا بکریاں ذبح کرنا یا بڑے جانور میں 2 حصے رکھنا مستحب ہے اور اگر 2 کی وسعت نہ ہو تو ایک کا ذبح کرنا بھی کافی ہے اور بیٹی ہو تو اس کی طرف سے ایک بکرا یا بکری یا بڑے جانور میں ایک حصہ کرنا مستحب ہے‘‘۔

قربانی کس پر واجب ہے؟

اس حوالے سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن نے اپنے ایک دوسرے فتوے میں بتایا ہے کہ ’’قربانی ہر اس مسلمان بالغ پر واجب ہوتی ہے جس کی ملکیت میں ساڑھے 52 تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال اس کی حاجات اصلیہ سے زائد موجود ہو، یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا رہائشی مکان سے زائد کوئی مکان، پلاٹ وغیرہ۔ قربانی کے معاملے میں اس مال پر سال بھر گزرنا بھی شرط نہیں ہے‘‘۔

EID UL AZHA

Tabool ads will show in this div