افغانستان ميں بھارتی سرمایہ ڈوب رہا ہے،آئی ایس پی آر

پاکستان افغان امن عمل کا سہولت کار ہے ضامن نہیں

Pakistan to respond with full force if country's sovereignty challenged: DG  ISPR

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بندوق فیصلہ نہیں کر سکتی۔ افغانستان میں سول وار ہوتی ہے تو اس کا اسپل اوور پاکستان آسکتا ہے۔ پاکستان افغان امن عمل کا سہولت کار ہے ضامن نہیں۔

جولائی 10 کو نجی ٹی وی سے گفتگو میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کے بہت سے پہلو ہیں، پاکستان نے خلوص نیت سے امن عمل بڑھانے کی کوشش کی، امن عمل آگے بڑھانے میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا، افغان نے کیسے آگے بڑھنا ہے فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے، پاکستان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا۔ پاک افغان بارڈر پر میجر جنرل نے بتایا کہ 2611 کلو میٹر طویل بارڈر پر 90 فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے۔ سرحد پر سکیورٹی تعینات ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی کے امکان کے پیش نظر تیاری کی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ افغان فوج کی تربیت پر کھربوں خرچ کیے گئے، ان کی اپنی فضائیہ بھی موجود ہے۔ افغان فوج کی تربیت پر امریکا کی جانب سے بڑی رقم خرچ کی گئی، افغان فوج کی لڑنے کی اپنی گنجائش تو ہے۔ افغانستان میں حکومت کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔ 13 اگست تک انخلا مکمل ہوجائے گا، ہم افغانستان میں ڈیڈلائن ختم کرانے کیلئے ایک حد تک جا سکتے ہیں۔ ہماری ایک حد ہے جو ہوگا افغانستان کی اندرونی صورت حال کے تناظرمیں ہوگا۔ افغان عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیسے حکومت بنانی ہے، پاکستان کو اکثر مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امن کیلئے کوشش کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ افغانستان سے کچھ خبریں آرہی ہیں۔ امریکا نے افغان فوج کی تربیت پر بہت پیسے خرچ کیے۔ افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کریں گے یہ دیکھنا ہوگا۔ اس وقت افغان افواج کی پیشرفت خاص نہیں۔ اب تک کی خبروں کے مطابق طالبان کی پیشرفت زیادہ ہے۔ افغانستان میں بندوق 20 سال میں فیصلہ نہیں کر سکی، افغانستان میں تمام دھڑے بھی جنگ سے تنگ آ چکے ہیں۔ پناہ گزینوں سے متعلق تمام خدشات موجود ہیں۔ امریکا نے جلد بازی میں انخلاء کیا، سب جانتے ہیں داعش، ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہیں۔ افغانستان میں تشدد بڑھا تو مہاجرین کی آمد کا خدشہ بھی موجود ہے۔

مہاجرین کے دوبارہ پاکستان رخ کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ اس بار بھی بڑی تعداد میں مہاجرین کے پاکستان آنے کا خدشہ ہے۔ وزارت داخلہ پہلے ہی پلاننگ کر چکے ہیں وہ ہی اس پر مفصل بات کریں گے، ہم نے اپنی سر زمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا۔ جیسے انتظام ہم نے کیے وہ دوسری طرف سےبھی ہونے چاہیے تھے۔ سرحد پر انتظامات دوسری طرف سے ایئر ٹائٹ نہیں رکھے گئے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ بھارت اپنے پروپیگنڈے پر کسی کی توجہ حاصل نہیں کر پا رہا، بھارت دنیا کو بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ افغانستان کے مسائل کی وجہ پاکستان ہے۔ دنیا افغانستان میں پاکستان کے امن عمل کوسراہتی ہے۔ پاکستان خلوص نیت سے اپنا کام کررہا ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز امریکا کا افغانستان سے ذمہ دارانہ انخلا چاہتے تھے۔ امریکا کو ذمے داری سے انخلا کرنا چاہیے تھا، امریکا کا افغانستان سے انخلا کچھ جلدی ہوگیا۔ امریکی بیسز کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ امریکی بیسز کی کوئی ضرورت نہیں۔

DG ISPR

Tabool ads will show in this div