عثمان کاکڑ کی موت:جسٹس فائزعیسیٰ کی سربراہی میں کمیشن کامطالبہ

کمیشن پرلواحقین، پارٹی کااعتماد ہونا چاہیے،پشتونخواملی عوامی پارٹی
Usman Kakar فوٹو: قومی اسمبلی

پختونخواملی عوامی پارٹی نے حکومت سے عثمان خان کاکڑ کے قتل کی تحقیقات کے لیے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ پر 17 جون کو کوئٹہ میں ان کے گھر میں حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پاگئے تھے۔ واضح رہے کہ عثمان کاکڑ نے 10مارچ 2021 کوایوان بالا سینٹ میں سینٹر کی حیثیت سے اپنی 6سالہ مدت کی الوداعی تقریر میں چیئرمین سینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے عثمان کاکڑ کے قتل کی تحقیقات کے لیے صوبے کی سطح پر ایک ایسا 2 رکنی عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کرلیا ہے جو عثمان کاکڑ کے خاندان اور پشتونخوامیپ کی امیدوں پر پورا نہیں اترتا۔

جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں کمیشن کا مطالبہ کیوں ؟ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالقہار خان ودان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہمارے ملک میں بڑے بڑے سانحات کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی کمیشنوں کی تاریخ انتہائی مایوس کن رہی ہے مرتضیٰ بھٹو قتل کمیشن ، بینظیر بھٹو قتل کمیشن ، میموگیٹ کمیشن اور دیگر تحقیقاتی کمیشنوں کا انجام اور نتیجہ ہمارے سامنے ہیں۔

عبدالقہار ودان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں شاید کوئٹہ کی 8 اگست 2016 سول اسپتال وکلاء کے سانحہ کے لیے قائم کی گئی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن وہ واحد کمیشن ہے جس نے تحقیقات مکمل کرکے ملزمان کا تعین کیا، انہیں قرار واقعی سزا دلوائی اور رپورٹ بھی پبلک کی۔ رہنما پشتونخوامیپ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تحقیقاتی کمیشنوں کے تلخ تجربات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عثمان کاکڑ کی قتل کے تحقیقات کے لیے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ تحقیقات کے نتائج عثمان خان کاکڑ کے خاندان اور ان کی پارٹی پشتونخوامیپ کے لیے اطمینان بخش ہوں۔

صوبائی حکومت کا موقف سماء ڈیجیٹل نے صوبائی حکومت کا موقف جاننے کےلیے ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی سے رابطہ کیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کے لیے تمام اقدامات کرنے کو تیارہے تاہم پی کے میپ کا تازہ مطالبہ سپریم کورٹ سے متعلق ہے جو صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے بلوچستان ہائیکورٹ کو درخواست دی تھی جس کی بنیاد پر 2 رکنی عدالتی کمیشن بنایا گیا اور اس کے علاوہ بھی ہم تحقیقات کے لیے ہر ممکن اقدامات کے لیے تیار ہیں۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے عثمان کاکڑ کی موت کے حوالے سے صوبائی حکومت کی درخواست پر بنے بلوچستان ہائیکورٹ کے 2 رکنی کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جو لوگ عثمان کاکڑ کی موت کے حوالے سے معلومات رکھتے ہوں وہ کمیشن سے براہ راست یا ضلعی اتنظامیہ کے توسط سے رابطہ کریں۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے عدالتی کمیشن کا اعلان عثمان کاکڑ کے گھر جاکر فاتحہ خوانی کے موقع پر کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ اگر اس کے علاوہ بھی عثمان کاکر کے لواحقین کا کوئی مطالبہ ہو تو اسے بھی مانا جائے گا تاہم اس وقت نہ تو عثمان کاکڑ کے خاندان اور نہ ہی پختونخوا میپ نے صوبائی حکومت کے کمشین پر کوئی اعتراض کیا تھا لیکن اب ان کی پارٹی کا موقف تبدیل ہوچکا ہے۔ اس حوالے سے عبدالقہار ودان کا کہنا تھا کہ ہمارا روز اول سے یہ ہی مطالبہ تھا کہ ایک ایسا اعلی سطحی کمشین بنایا جائے جس پر عثمان کاکڑ کے لواحقین اور پارٹی کو اعتماد ہو۔

justice qazi faiz essa

Usman Kakar

Tabool ads will show in this div