کرنل شیرخان شہید کا22واں یوم شہادت آج منایاجارہا ہے

شیرخان شہید نےکارگل میں لازوال بہادری، جرات کامظاہرہ کیا

کارگل کے محاذ پر وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئےجامِ شہادت نوش کرنے والے کرنل شیرخان کا آج 22واں یومِ شہادت منایا جارہا ہے۔

کارگل جنگ کے دوران ہیرو شیرخان نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی، انہوں نے معرکۂ کارگل میں لازوال بہادری، جرات کا مظاہرہ کیا اور وطن عزیز کی حفاظت کےلیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق  مادرِ وطن کی حفاطت کیلئے کرنل شیرخان کا جذبہ اٹل تھا۔ آئی ایس پی آر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں کیپٹن کرنل شیرخان شہید پر فخر ہے‘۔

کرنل شیرخان خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھتے تھے ، انہوں نے 1992 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔

کارگل تنازع کے دوران انہیں ایک اہم پوزیشن کلیئر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کرنل شیرخان اور ان کے ساتھی دشمن کی فائرنگ پاور کو نظرانداز کرتے ہوئے پوری بہادری و استقامت کے ساتھ اسے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

کارگل جنگ کے ہیروز:کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان کی برسی

کیپٹن کرنل شیر خان نے اس آپریشن کی قیادت کی اور وہ دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے۔ بھارتی فوج کے افسر جس نے لڑائی کے دوران کیپٹن کرنل شیرخان کی بہادری کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا، شہادت کے بعد ان کی جیب میں ایک تعریفی نوٹ چھوڑا جس پر ان کی بہادری کی تعریف کی گئی تھی۔

کیپٹن کرنل شیرخان نے 5جولائی 1995 کو جام شہادت نوش کیا، ان کے خاندان کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کے بہادر بیٹے نے وطن کیلئے اپنی جان قربان کی۔ شہید نے اپنے خاندان کے نوجوانوں کیلئے ثابت قدم رہنے کیلئے ایک لازوال پیغام چھوڑا ہے۔

pak army

Kargil war

Tabool ads will show in this div