سندھ ہائی کورٹ نےٹک ٹاک پرپابندی کا فیصلہ واپس لےلیا

پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

جمعہ کو ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف پی ٹی اے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم دے دیا۔

پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے نے 30 جون  کو ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کر دیا تھا۔ عدالت نے پی ٹی اے کو ایل جی بی ٹٰی سے متعلق درخواستیں بھی جلد نمٹانے کا حکم دیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے 28 جون کو ٹک ٹاک معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ پی ٹی اے نے حکم امتناعی واپس لینے کی استدعا کی تھی۔ پی ٹی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ایپ سے متعلق شکایت کنندہ کی درخواست پر 5 جولائی تک فیصلہ کردیں گے۔ عدالت نے پی ٹی اے کو شکایت کنندہ کی درخواست پر 5 جولائی تک فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے کیس کی سماعت 5 جولائی کے لیے ملتوی کردی۔

ٹک ٹاک نے پالیسی کی خلاف ورزی پر پاکستان میں 65لاکھ ویڈیوزہٹادیں

واضح رہے کہ 28 جون کو سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک ایپلیکیشن فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔سندھ ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک کیخلاف بیرسٹر اسد اشفاق اور معاذ وحید ایڈووکیٹ کی درخواست کی سماعت ہوئی جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر غیراخلاقی اورغیراسلامی مواد رکھا جارہا ہے، پی ٹی اے کو شکایت دی تاہم تاحال کارروائی نہیں کی گئی۔سندھ ہائیکورٹ نے معاملے پر اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 جولائی تک جواب طلب کرلیا۔

ملک بھر میں ٹک ٹاک پر ایک بارپھر پابندی عائد

 ٹک ٹاک کی بندش کے فیصلے پر ٹک ٹاک انتظامیہ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک کے پاس غیرمناسب مواد کا جائزہ لینے کا بہترین نظام موجود ہے۔ ایکشن کیلئے مضبوط پالیسیاں، طریقہ کار اور ٹیکنالوجیز موجود ہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ کےفیصلےکےبارےمیں معلومات ملی ہیں اور فی الحال اس کے مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹک ٹاک نے اپنی پہلی سہ ماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2021 جاری کردی ہے۔ٹک ٹک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پالیسیوں کی خلاف ورزی  پرٹک ٹاک نے پاکستان میں 65 لاکھ  ویڈیوز ہٹائی ہیں۔نامناسب مواد ہٹائےجانے والے ممالک میں پاکستان سمیت 5 بڑے ملک شامل ہیں۔

اس سے قبل بھی دو بار پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی جاچکی ہے، 11 مارچ 2020ء کو پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر پی ٹی اے نے ٹک ٹاک بند کردی تھی، عدالت نے موبائل ایپلیکیشن سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کی ہدایت کی تھی تاہم یکم اپریل کو عدالت عالیہ نے ٹک پر سے پابندی اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ نہیں ہونا چاہئے، پی ٹی اے ایسا سسٹم بنائے جو اچھے اور برے میں تفریق کرسکے۔

TIK TOK

Tabool ads will show in this div