توہین مذہب کےالزام پرمینجرکوقتل کرنیوالےگارڈکوسزائےموت

ملزم کو 2 بار سزائے موت
Jun 30, 2021
[caption id="attachment_2316774" align="alignright" width="800"] بشکریہ پنجاب پولیس[/caption]

خوشاب میں توہین مذہب کا غلط الزام لگا کر بینک مینجر کو قتل کرنے والے گارڈ کو 2 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے گزشتہ سال 2020 نومبر میں خوشاب کے علاقے قائد آباد میں بینک میجنر کو توہین مذہب کا غلط الزام لگا کر قتل کرنے والے گارڈ حمد نواز کو سزائے موت کی سزا سنا دی، جب کہ مجرم کو 12 سال قید اور 11 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ گارڈ نے ذاتی رنجش پر بینک منيجر کو قتل کيا۔ گارڈ کی جانب سے لگایا گیا توہين مذہب کا الزام ثابت نہيں ہوا ہے۔

خوشاب پولیس کے ترجمان محمد حارث کے مطابق واقعے کے بعد قائد آباد میں اس وقت امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا کیونکہ سیکیورٹی گارڈ نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے بینک مینیجر کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کیا ہے۔

خوشاب بینک مینیجر سپردخاک، علماء نے قتل ناحق قرار دیدیا

ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب سہیل سکھیرا کے مطابق ملزم گارڈ کے خلاف ابتدائی طور پر اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر دی گئیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے بینک مینیجر پر توہین رسالت کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اس اس نے توہین مذہب پر قتل کرنے کی غرض سے مقتول پر گولیاں چلائیں۔

یہ ملزم کا ذاتی بیان تھا، جس کے گواہان موجود نہ تھے۔ تاہم بینک میں لگے سی سی ٹٰ وی فوٹیج پولیس نے حاصل کرلی تھی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مجرم گارڈ نے کیسے اچانک صبح کے اوقات میں بینک مینجر پر فائرنگ کی۔

پشاور، قتل، توہین مذہب

دوسری جانب مقتول کے اہل خانہ نے مقدمہ درج کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بھائی گزشتہ ایک سال سے اس بینک میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ اور اکثر ان کو گھر کی گاڑی کے ذریعے بینک چھوڑا جاتا تھا، گھر والے ملزم احمد نواز کو اس لیے پہلے سے جانتے تھے۔

ایف آئی آر میں مقتول کے بھائی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے واقعے والے دن اپنے مقتول بھائی کو بینک کے باہر اتارا اور تھوڑی دیر میں فائرنگ کی آواز آئی۔ جس پر میں اترا تو اس وقت دیکھا مجرم گارڈ احمد نواز میرے مقتول بھائی پر براہ راست فائرنگ کر رہا تھا۔

خوشاب توہین رسالت کاالزام: بینک کے گارڈ نے منیجر کوقتل کردیا

درج مقدمے میں کہا گیا تھا کہ واقعے کی وجہ عناد سیکیورٹی گارڈ کی جانب سے ڈیوٹی پر تاخیر سے آنے پر مقتول کی جانب سے ڈانٹ ڈپٹ تھی۔

واقعہ کی سی سی ٹی وی

واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ مقتول بینک مینجر حنیف اپنی جگہ بیٹھا کام میں مصروف ہے۔ اس دوران حملہ آور احمد نواز اس کے پاس آتا ہے اور سامنے کسٹمرز کیلئے مختص بینچ پر بیٹھتا ہے۔ ایک اور گارڈ حنیف کی میز کے ساتھ آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر اچانک نواز اٹھ کھڑا ہوا اور بینک مینجر حنیف پر فائر کھول دیا۔ دوسرا گارڈ نواز پر قابو پانے کیلئے آگے بڑھا مگر تب تک وہ 3 گولیاں چلا چکا تھا۔

khushab

bank guard

BLASHPHEMY