گانچھےمیں باپ بيٹےکی 44 سال بعد ملاقات

تقسیم کے باعث گاؤں کا ایک حصہ بھارت میں شامل ہوگیا تھا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/06/GHANCHEY-DEVIDED-KHANDAN-PKG-KAZIM-29-06.mp4"][/video]

گانچھے کے گاؤں میں باپ بيٹے کی 44 سال بعد ملاقات ہوئی۔

گانچھےکےگوبا علی جب 44 سال بعد جب والد روزی علی سےملے تو ہرآنکھ اشکبار ہوگئی۔ سال 1971 میں گانچھے کے گاؤں فرانو کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا تو کئی خاندان جدا ہوگئے۔ گاؤں کا آدھا حصہ پاکستان  اور بقیہ ہندوستان چلا گيا۔

گاؤں میں 2 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کےلیے 4 ہزار کلوميٹر کا راستہ طے کرنا پڑرہا ہے۔گاؤں کی آبادی لگ بھگ 1200 افراد پر مشتمل ہے اور تقريبا اتنے ہی لوگ سرحد پار گاؤں تھنگ ميں بستے ہيں۔اس علاقے ميں موبائل فون کے سگنلز اور انٹرنيٹ کام نہيں کرتا اور صرف خطوط ہی ان لوگوں کے درمیان رابطے کا واحد ذريعہ ہے۔

Ghanche

Tabool ads will show in this div