لاہور دھماکا ريموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا،شواہد مل گئے

دھماکے کی نوعیت تاحال معلوم نہ ہوسکی

حساس اداروں کا اپنی مرتب کردہ رپورٹ میں کہنا ہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والا دھماکا خودکش نہیں تھا بلکہ دھماکا ريموٹ کنٹرول سے کرنے کے شواہد ملے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دھماکے کی اطلاع دن 11 بج کر 15 منٹ پر ریحان نامی شہری نے دی۔ اب تک کسی بھی دہشت گرد تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ دھماکے میں استعمال بارود کی نوعیت تاحال معلوم نہ سکی۔

ممکنہ ملزم کون ہے؟

مبینہ ملزم ممکنہ طور پر کراچی کے علاقے محمود آباد کا رہائشی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات گئے ملزم کے گھر پر چھاپہ مار کر تلاشی لی اور چند دستاویزات قبضے میں لے لی ہیں۔چھاپے کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ مبینہ ملزم بحرین میں اسکریپ اور ہوٹل کا کاروبارکرتا رہا ہے اوراس نے اپنے خاندان کو2010 میں بحرین سے پاکستان منتقل کیا۔

ملزم ڈیڑھ ماہ پہلے بحرین سےکراچی پہنچا تھا اور اس نے ڈیڑھ ماہ کے دوران 3 مرتبہ لاہور کا دورہ کیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 3 بار لاہور جانے کے دوران مبینہ ملزم مجموعی طور پر27روز لاہورمیں رہا اور لاہور میں قیام کے دوران مختلف افراد سے رابطوں کے شواہد بھی ملے ہیں۔ پاکستان آنے کے دوران مبینہ ملزم کا امیگریشن ڈیٹا حاصل کرلیا گيا ہے۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مبینہ ملزم کو 24 جون کو لاہور کے ایئرپورٹ سے کراچی جانے والی پرواز سے آف لوڈ کرکے حراست میں لیا گیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق شبہ ہے کہ زیر حراست شخص کا تعلق لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے سے ہے اور وہ طیارے کے ذریعے کراچی فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں ترجمان پنجاب حکومت مسرت چیمہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاہور دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

گاڑی سے متعلق سنسنی خیز انکشافات

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی بابو صابو انٹر چینج سے شہر میں داخل ہوئی۔ گاڑی بدھ 23 جون کی صبح 9 بج کر 40 منٹ کے قریب شہر میں داخل ہوئی۔ بابو صابو ناکے پر گاڑی کی چیکنگ بھی ہوئی تھی۔ گاڑی اس سے قبل بھی شہر میں 2 مرتبہ دیکھی گئی۔ گاڑی میں بارودی مواد کس مقام سے رکھا گیا اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

بابو صابو انٹر چينج پر پولیس اہلکار نے گاڑی کی ڈگی کھولنے کا کہا تو اس میں سوار شخص نے ڈگی خراب ہونے کا بہانہ بنايا۔ ڈرائيور جوہر ٹاؤن جانے کیلئے جناح اسپتال کی طرف چلا گيا۔ گاڑی ميں سوار شخص نے لوگوں سے 2 بار مطلوبہ ايڈريس بھی پوچھا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی 2010ء میں ڈکیتی میں چھینی گئی تھی۔ گاڑی چھیننے کی واردات کا مقدمہ گوجرانوالہ کے تھانہ کینٹ میں درج ہے۔

ذرائع کے مطابق دھماکے میں 15 سے 20 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ بال بیرنگ بھی استعمال ہوئے۔ دھماکا خیز مواد کار میں نصب تھا۔ دھماکے کی جگہ تین فٹ گہرا اور 8 فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن کی بی او آر سوسائٹی میں بدھ 23 جون کو دن ساڑھے 11 بجے ہونے والے دھماکے میں 3 افراد جاں بحق، جب کہ 23 زخمی ہوگئے تھے۔

HAFIZ SAEED

JOHAR TOWN

lahore blast

Tabool ads will show in this div