ایون فیلڈ اور العزیزیہ میں نوازشریف کی دونوں اپیلیں خارج

نوازشریف اشتہاری ہونے پرحق سماعت کھو چکے
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں برطرف وزیراعظم نواز کی دونوں اپیلیں خارج کرتے ہوئے سزائیں بحال کردیں۔ عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ نواز شریف پہلے ہی عدالتی مفرور قرار دیئے جا چکے ہیں۔ نوازشریف اشتہاری ہونے پر حق سماعت کھو چکے ہیں۔

جمعرات 24 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کی دونوں اپیلیں جارج کردیں۔ اپیلیں نواز شریف کے اشتہاری ہونے کی بنیاد پر خارج کی گئیں۔ نواز شریف نے احتساب عدالت سے سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیل کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پرمشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدم حاضری کی وجہ سے نواز شریف کو کوئی ریلیف نہیں مل سکتا۔ ان کی سزائیں بحال ہوچکی ہیں، کیپٹن (ر) صفدر، مریم نواز عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، کیس سے نواز شریف کو الگ کیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف واپس آئیں یا پکڑے جائیں تو اپیل بحالی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ نواز شریف کے مفرور ہونے کی وجہ سے درخواستیں خارج کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔

قبل ازیں ن لیگ کے عدالتی معاون اعظم نذیر تارڑ نے سماعت کے دوران مختلف عدالتی نظیریں پیش کیں اور کہا کہ اپیل بھی ٹرائل کا ہی تسلسل ہے، جیسے ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل نہیں چل سکتا اسی طرح اپیل پر بھی سماعت نہیں ہو سکتی۔ کسی غیر حاضر شخص کا کیس میرٹ پر طے کر دیا جائے تو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ اپیل کنندہ کے وکیل نہیں، عدالتی معاون ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا میں بیلنس دلائل دوں گا اور عدالت کی معاونت کروں گا۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ جن عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات پیش کیے گئے وہ غیر موجودگی میں ٹرائل سے متعلق ہیں۔ یہاں معاملہ مختلف ہے کیونکہ ٹرائل نواز شریف کی موجودگی میں ہوا اور انہوں نے خود اپیلیں فائل کیں۔

انہوں نے استدعا کی کہ نواز شریف کی سزا کے خلاف دونوں اپیلیں خارج کی جائیں تاہم جو اپیل کنندگان مفرور نہیں اور کورٹ کے سامنے ہیں، عدالت ان کی اپیلیں سن سکتی ہے۔ عدالت نے ایک موقع پر اعظم نذیر تارڑ کو کیس کی نوعیت پر بات کرنے سے روک دیا اور کہا ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اپیل کنندہ کون ہے؟ ہم کورٹ آف لا ہیں اور ہم نے صرف قانون کے مطابق چلنا ہے۔

AVENFIELD

Tabool ads will show in this div