پیپلزپارٹی سے کوئی مقابلہ نہیں،نہ ہی ہدف ہے،مریم نواز

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سچ بولنے کی سزا نہ دی جائے۔

مریم نواز نے کہا ہے کہ میرا ہدف پاکستان پیپلز پارٹی نہیں ہے اور نہ ہی ان سے کوئی مقابلہ ہے۔پیپلز پارٹی اب پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سچ بولنے کی سزا نہ دی جائے۔اگر آج وہ کٹہرے میں کھڑے ہیں توکوئی بھی جج جو انصاف کرنا چاہتے ہیں وہ کٹہرے میں کھڑے ہونگے۔ عدلیہ کو چاہئے کہ جو دباؤ آتا ہے اس کو روکیں اور ججوں کو دباؤ میں لانے کے اقدامات کے سامنے کھڑے ہوں۔

اپوزیشن اتحاد پر انھوں نے کہا کہ استعفوں کا فائدہ اس وقت ہوتا توجب اُس وقت پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں استعفیٰ دے دیتیں۔ اگر جماعتیں آپس میں تقسیم ہوکر مستعفی ہوجاتیں تو اس کا نقصان ہوتا۔ پی ڈی ايم ميں شامل جماعتوں کا مؤقف نوازشريف والا ہی ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کی بیان بازی سے کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے۔ حکومت اپنی اچھی کارکردگی سے ہی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ پاکستان کی عوام کو اس حکومت سے نجات چاہئے۔اس وقت حکومت کی ترجیح صرف نوازشریف اور اپوزیشن ہے۔عمران خان اپوزیشن کے کندھے پر رکھ کر کب تک اپنی حکومت چلائیں گے۔

پاکستان کے فوجی اڈے امریکا کے حوالے کرنے سے متعلق خبروں پر ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اڈے دینےکی بات پر حکومت کی جانب سےکوئی تردید نہیں آئی ہے۔ حکومت نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے اگر کوئی ڈیل کی ہے تو پارلیمنٹ کےذریعے قوم کو بتانا چاہئے۔ پاکستان آزاد ملک ہے اور قوم کے سامنے آنا چاہئے کہ فوجی اڈے سے متعلق حکومت نے کیا فیصلہ کیا ہے۔

بجٹ سے متعلق انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون مشاورت کررہی ہے۔شہبازشریف قوم کے سامنے پارٹی پالیسی لے کر آئیں گےاور ملک میں مہنگائی سے بچاؤ کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

حالیہ لوڈ شیڈنگ پر مریم نواز نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ بڑھا دی ہے جب کہ پچھلی حکومت نے لوڈ شیڈنگ ختم کردی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ نے 3 سال میں ریکارڈ بجلی پیدا کی اور موجودہ حکومت کو صفر لوڈشیڈنگ ملی۔

انھوں نے مزید کہا کہ جب وزیراعظم عمران خان انگلستان جائیں تو ارشد ملک اور شوکت صدیقی کی گواہی ساتھ لے کر جائیں اور پھر دیکھیں کہ ان کی کتنی عزت افزائی ہوتی ہے۔

MARYAM NAWAZ

Tabool ads will show in this div