افغانستان کےراستے پاکستان اورازبکستان تجارتی معاہدہ جلد متوقع

پاکستان کی دونوں ممالک سے بات چیت جاری ہے،وزارت تجارت
Jun 01, 2021

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان پہلی مرتبہ افغانستان کے راستے تجارت کا آغاز ہوگیا ہے جو خطے میں اقتصادی ترقی کے لیے اہم قدم قرار دیا جارہا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت تجارت بین الاقوامی کنونشن کے تحت ہورہی ہے اور باقاعدہ معاہدہ جلد متوقع ہے۔

پاکستان نے گزشتہ مہینے کراچی بندرگاہ سے ایک ٹرک براستہ تورخم تاشقند روانہ کیا تھا جس میں ادویات سمیت دیگر طبی سامان موجود تھا جو 48 گھنٹوں میں تاشقند پہنچ گیا تھا جبکہ ٹرک واپسی پر چمڑے سے بنی مصنوعات لے کر 2 دن میں واپس فیصل آباد پہنچ گیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان زمینی راستہ تجارت کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان تجارت کا فروغ ہے۔ یہ منصوبہ کئی دہائیوں سے زیرغور ہے جو افغانستان کی مخدوش صورتحال کے باعث تاخیر کا شکار تھا۔ وزیر تجارت رزاق داؤد کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پائیدار تجارتی تعلقات کے لیے تجارتی پارٹنرز کے ساتھ روابط بہت اہم ہیں۔ عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے لیے اپنے محل وقوع کا فائدہ اٹھائے گا اور افغانستان اور ازبکستان کے ساتھ موجودہ تعلقات اس وژن پر عملدرآمد کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک کو تجارت، ٹرانزٹ اور نقل و حرکت کا مرکز بنانا چاہتی ہے۔ رواں سال مارچ میں دورہ پاکستان کے موقع پر ازبک وزیرخارجہ نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی جس میں دو طرفہ تجارت بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔ پاکستان نے ازبکستان کو کراچی اور گوادر سے تجارت کے لیے سہولیات فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی تھی اور اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان وسط ایشائی ممالک کے لیے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ خشکی میں گھرا ازبکستان بین الاقومی تجارت کے لیے اس وقت ایران کی بندرگاہ بندرعباس پر انحصار کیے ہوئے ہے۔

کیا پاکستان،ازبکستان اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ معاہدہ موجود ہے؟

ترجمان وزارت تجارت نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ باقاعدہ معاہدے کےلیے افغانستان اور ازبکستان سے بات چیت جاری ہے اور اس وقت جو تجارت کا آغاز ہوا ہے وہ بین الاقوامی کنونشن ٹی آئی آر کے تحت ہورہا ہے جو کہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف دو طرفہ ایکسپورٹ ہورہی ہے تاہم رواں ماہ کے آخر یا جولائی میں وزیراعظم عمران خان کی صدر ازبکستان کے سے ملاقات متوقع ہے جس میں باقاعدہ معاہدے پر دستخط کیا جائیں گے۔

بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ کنونشن

اقوام متحدہ کا بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ کنونشن (ٹی آئی آر) بین الاقوامی کسٹم ٹرانزٹ سسٹم ہے جس کے تحت ملکوں کے درمیان تجارت ہوتی ہے اور سرحدوں پر نگرانی کے سسٹم کو تیز کرکے تجارت کو آسان بنایا جاتا ہے۔ ٹی آر آئی کنونشن 1975 سے اب تک دنیا بھر کا واحد اور کامیاب ٹرانسپورٹ کنونشن ہے۔ پاکستان نے اس معاہدہ پر سن 2015 جبکہ افغانستان نے سن 2013 میں دستخط کیے تھے۔ افغانستان اور ازبکستان سمیت دنیا کے تقریبا 77 ممالک اس معاہدہ کا حصہ ہے اس کنوشن کے مطابق پاکستان سے وسط ایشائی ریاستوں میں جانے والے سامان کو افغانستان میں چیک نہیں کیا جائے گا۔

افغانستان کی صورتحال منصوبے کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ

مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان میں جاری اندرونی لڑائی ہے جس میں امریکا کے جانب سے انخلاء کے اعلان کے بعد شدت آگئی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں بدامنی اسی طرح جاری رہی تو یہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے کئی دہائیوں پرانے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں مزید تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔

TORKHAM BORDER

TIR

Tabool ads will show in this div